بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
نومسلم کے ختنہ کا حکم
سوال
اگر کوئی شخص جوانی میں مسلمان ہوجائے ،تو اس کے ختنہ کا کیا حکم ہےبندہ نے ایک صاحب سے سنا ہے کہ ختنہ سنت ہے اور ستر چھپانا فرض ہے ۔اس لیے فرض کو کسی سنت کی وجہ سے ترک نہیں کیا جائے گا،کیا اس کا یہ کہنا درست ہے؟
جواب
واضح رہےکہ مردوں کے حق میں ختنہ کروانا سنت اور شعائرِ اسلام میں سے ہے ،ختنہ چونکہ شعائرِ اسلام میں سے ہےیعنی اسلام کی مخصوص علامت اور پہچان ہے اس وجہ سے اس پر عمل کرتےہوئے نومسلم کے اسلام قبول کرنے کے بعد اس کا ختنہ کروایا جائے گا، چنانچہ اگر کسی آدمی کا ختنہ نہ ہوا ہو ،یا جوانی میں ایمان لائے تو اول کوشش یہ ہونی چاہیے کہ خود ہی ختنہ کروائے یا بیوی کو طریقہ سکھا کر ختنہ کروائے ،بصورتِ دیگر کسی اور سے بھی ختنہ کرواسکتا ہے ۔جہاں تک ستر کھولنے کا مسئلہ ہے تو ختنہ کے متعلق فقہائے کرام ؒنے یہ تصریح کی ہے کہ بالغ کا ختنہ کرنا اور ضرورت کے بقدر ختنہ کرنے والے کے سامنے ستر کھولناجائز ہے ،ضرورت سے زائد بے پردگی جائز نہیں ،اس لیے ختنہ کرنے والے کے سوا کوئی نہ دیکھے ،ختنہ کے لیے ستر کھولنے کی یہ گنجائش اس وجہ سے ہے کہ ختنہ صرف سنت ہی نہیں بلکہ شعائرِ اسلام میں سے بھی ہے۔
قيل في ختان الكبير إذا أمكن أن يختن نفسه فعل وإلا لم يفعل إلا أن يمكنه أن يتزوج أو يشتري ختانة فتختنه وذكر الكرخي في الجامع الصغير ويختنه الحمامي كذا في الفتاوى العتابية.(الفتاوى الهندية ، كتاب الكراهية ، الباب التاسع عشر في الختان ، ج: 5 ص: 2620)
(و) الأصل أن (الختان سنة) كما جاء في الخبر (وهو من شعائر الإسلام) وخصائصه (فلو اجتمع أهل بلدة على تركه حاربهم) الإمام فلا يترك إلا لعذر وعذر شيخ لا يطيقه ظاهر۔(الدرالمختار ، كتاب الحظر والإباحة ، ج: 7ص:213)
ويجوز النظر إلى الفرج للخاتن وللقابلة وللطبيب عند المعالجة ويغض بصره ما استطاع، كذا في السراجية.(الفتاوى الهندية ، كتاب الكراهية ، الباب التاسع في النظر ، ج:5 ص: 2603)