بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
"مسجد کبیر"کی تحدید رقبہ کے اعتبار سے
سوال
نمازیوں کےسامنےگزرنےکی جوحدفقہاےکرام بیان کرتےہیں کہ مسجدصغیرمیں نمازی کےسامنےگزرناجائزنہیں،جبکہ مسجدکبیر میں تین صف چھوڑکرگزرنےکی گنجائش ہے۔اب دریافت طلب امریہ ہےکہ مسجدکبیرکااطلاق کس مسجدپرہوگا؟یعنی مسجدکےکبیراور صغیر ہونےمیں اعتبارحدوداربعہ کی ہےیانمازیوں کی تعدادکی؟اورجومسجد ہوتوچھوٹی ،لیکن اس میں نمازیوں کی تعداد زیادہ ہوتوایسی مسجد کو مسجدکبیرکہاجاسکتاہےیانہیں؟
جواب
حدیث شریف میں نمازی کےآگےسےگزرنےوالےکےمتعلق سخت وعیدآئی ہے، حضورﷺنےارشادفرمایاکہ "نمازی کےآگےسےگزرنےوالےکواگراپنےاس فعل کی گناہ معلوم ہوجائےتووہ نمازی كےسامنےسےگذرنےکی بجائے چالیس سال تک کھڑارہناپسند كرےگا"فقہاےکرام نےاس حدیث کوچھوٹی مسجدیاگھرمیں نمازپڑھنےوالےکےسامنےسے گزرنے پر محمول کیاہے،بڑی مسجدیاصحرامیں نمازپڑھنےوالےکےسامنے اتنے فاصلےسےگزرنےکی گنجائش ہےکہ اگرنمازی سجدہ کی جگہ پرنگاہ رکھےتوگزرنےوالااس کونظرنہ آئےاوریہ تقریباسجدہ کی جگہ سےدوصفوں کا فاصلہ ہوتاہے۔
صورت مسئولہ کےمطابق "مسجدکبیر"کی جوتحدیدفقہاےکرام نےفرمائی ہےوہ رقبہ کےاعتبارسےہےنہ کہ نمازیوں کی تعدادکی کثرت اور قلت کےاعتبارسے،چنانچہ جس مسجدکارقبہ طولا(لمبائی میں) چالیس ہاتھ(جس کی مقدارانگریزی گزکےحساب سےتقریبابیس /20گز یعنی ساٹھ /60فٹ بنتی ہے)سے کم ہوتووہ" چھوٹی مسجد"کہلائےگی ،اگرچہ اس میں نمازیوں کی تعدادکثیرکیوں نہ ہو،البتہ عرضا(چوڑائی میں)مذکورہ مقدارکاہوناضروری نہیں ،کیونکہ مقصودیہ ہےکہ نمازى کےسامنےاتنےفاصلےسےگزرے،جس سےاس کےخشوع وخضوع میں خلل واقع نہ ہواورخلل کےواقع ہونےیانہ ہونےمیں مدار،مقدارطول کاہے نہ کےعرض کا،اس کی طرف علامہ شامی نے اس عبارت ميں اشارہ فرمایاہےکہ "جعل جمیع مابین یدي المصلي إلى حائط القبلة مکانا واحدا"،چنانچہ جو مسجد طولا چالیس ہاتھ سے کم رقبےوالی ہووہ "چھوٹی مسجد"کہلائےگی، اوراس سےزیادہ رقبےوالی مسجد"مسجدکبیر"کہلائےگی۔
فقال أبو جهيم: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه، لكان أن يقف أربعين خيرا له من أن يمر بين يديه» قال أبو النضر: لا أدري، أقال أربعين يوما، أو شهرا، أو سنة.(أخرجه البخاري في صحيحه، كتاب الصلاة، باب إثم الماربين يدي المصلي، رقم الحديث:510، ج:1، ص:184، الطاف ايندسنزكراتشي)
(قوله ومسجد صغير) هو أقل من ستين ذراعا، وقيل من أربعين، وهو المختار كما أشار إليه في الجواهر قهستاني.(قوله فإنه كبقعة واحدة) أي من حيث إنه لم يجعل الفاصل فيه بقدر صفين مانعا من الاقتداء تنزيلا له منزلة مكان واحد، بخلاف المسجد الكبير فإنه جعل فيه مانعا فكذا هنا يجعل جميع ما بين يدي المصلي إلى حائط القبلة مكانا واحدا، بخلاف المسجد الكبير والصحراء فإنه لو جعل كذلك لزم الحرج على المارة، فاقتصر على موضع السجود. (ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الصلاة، باب مايفسد الصلاة ومايكره فيها، مطلب:إذاقرأ قوله – تعالی جدك -...ج:2، ص:398، دارالكتب العلمية)
ولم يذكر في الكتاب قدر المرور، واختلف المشايخ فيه قال بعضهم: قدر موضع السجود، وقال بعضهم: مقدار الصفين، وقال بعضهم: قدر ما يقع بصره على المار لو صلى بخشوع، وفيما وراء ذلك لا يكره و هو الأصح. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الصلاة، باب مايستحب ويكره فيها، ج:2،ص:83، دارالكتب العلمية)