بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

احتلام یادہونےکی صورت میں بیداری سےکچھ دیربعد مذی یامنی کانکلنا


سوال

جب کوئی شخص خواب میں مباشرت کرے،لیکن نیندسےبیدارہونےکی صورت میں وہ اپنےبدن اورکپڑوں پرکوئی تری وغیرہ نہ دیکھے،پھراٹھنےکےکچھ دیربعدمنی یامذی نکل آئے،لیکن خروج المنی علی وجہ الدفق نہ ہوتوکیااس صورت میں مذکورہ شخص پرغسل واجب ہےیانہیں؟

جواب

          فقہی نقطۂ نظرسےکسی بھی مردیاعورت سےبیداری یانیندکی حالت میں(بغیرجماع کے)قوت اورشہوت کےساتھ منی کاخارج ہوجاناموجب غسل  ہے،قوت اور شہوت سےمرادیہ ہےکہ منی اپنےاصل مقام سےمذکورہ کیفیت سےنکلے،اگرچہ کسی خارجی سبب کی بنا پروہ شرم گاہ سےبلاشہوت وقوت  نکلے۔ حنفیہ کےنزدیک یہی قول مفتی بہ ہے۔

          صورت مسئولہ کےمطابق اگرکوئی شخص خواب میں مباشرت (جماع)کرے،لیکن نیندسےبیداری کی حالت میں وہ اپنے بدن اورکپڑوں پرکسی قسم کی تری وغیرہ نہ دیکھے،تاہم اٹھنےکےکچھ دیربعداس سے مذی یا منی خارج ہو جائے تومذی کےخروج کی صورت میں اس پرغسل واجب نہیں۔اوراگرمنی خارج ہوئی ہوتواس صورت میں اس پرغسل واجب ہوگا،البتہ اگرخروج منی سےقبل اس  نےنمازپڑھی ہوتواس کااعادہ ضروری نہیں ۔

 

رجل استيقظ وهو يتذكر الاحتلام ولم ير بللا ومكث ساعة فخرج مذي لا يلزمه الغسل، احتلم ليلا ثم استيقظ ولم ير بللا فتوضأ وصلى صلاة الفجر ثم نزل المني يجب عليه الغسل.كذا في الذخيرة ولا يعيد الصلاة.(الفتاوى الهندية، كتاب الطهارة، باب الغسل، الفصل الثالث:في المعاني الموجبة للغسل، ج:1، ص:66، دارالفكر)


فتویٰ نمبر : 8864/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور