بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
سامانِ تجارت کی زکوۃ میں کونسی قیمت کا اعتبار ہوگا
سوال
اگر کوئی دکاندار زکوۃ ادا کرنا چاہے ،تو ادائیگی زکوۃ کے لیے سامانِ تجارت کی قیمت کس طرح لگائے گا ،کیا قیمتِ خرید کا اعتبار کرے گا یا قیمتِ فروخت کا ؟اگر قیمتِ فروخت کے اعتبار سے زکوۃ اداکی جائے گی تو کبھی کبھار دکاندار کسی شخص کو کم قیمت پر جب کہ دوسرے کو زیادہ قیمت پر بیچ دیتا ہے ۔تو ایسی صورت میں قیمتِ فروخت کی صحیح مقدار معلوم کرنا مشکل ہے۔
جواب
واضح رہے کہ سامانِ تجارت میں زکوۃ کی ادائیگی کے حوالے سے قیمتِ فروخت کا اعتبار ہے،یعنی جو سامانِ تجارت موجود ہے تو زکوۃ کی ادائیگی کے وقت اس کی قیمتِ فروخت کے حساب سے زکوۃ ادا کی جائے گی ۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مختلف اشخاص کے لیے قیمت میں تبدیلی آتی رہتی ہے ،جس کی وجہ سے قیمتِ فروخت متعین نہیں ہوسکتی ،تو اس صورت میں قیمتِ فروخت کی تعیین میں امکان کو معیار قرار دیا گیا ہے ،یعنی سال کے اختتام پر مالک سامان کا محتاط طریقے سے اندازہ لگائے کہ میرے پاس موجود سامان معمول اور عادت کے موافق کس قیمت پر فروخت ہوسکتا ہے ،پس اسی قیمت کا اعتبار ہوگا۔
صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر ایک دکاندار کے پاس بقدرِ نصاب مالِ تجارت ہو اور اس پر سال گزرجائے تو اس پر زکوۃ کی ادائیگی لازم ہوگی اور زکوۃ ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ تمام مال کی موجودہ قیمتِ فروخت کا محتاط اندازہ لگائے اور زکوۃ ادا کرے۔
(وجاز دفع القيمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غير الإعتاق) وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه ولو في مفازة ففي أقرب الأمصار إليه۔(ردالمحتار ، كتاب الزكوة ، باب زكوة المال ، ج:3 ص: 229)