بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

غسل جنابت میں مضمضہ بھول جانا اور اس کے ساتھ پڑھی گئی نماز کا حکم


سوال

اگر کسی شخص سے غسل جنابت میں مضمضہ رہ گیا اور اس نے نماز پڑھی بعد میں اس کو یاد آگیا تواب وہ صرف مضمضہ کرے گا یا اعادہ غسل کرے اور اگر وقت باقی ہو تو نماز پڑھے گا یا نہیں اور اگر وقت نکل چکا ہو تو کب اس نماز کی قضا لائے گا؟

جواب

             واضح رہےکہ منہ میں پانی ڈالنا غسل جنابت میں فرض اور مبالغہ کرنا افضل ہے۔غسل جنابت میں جب تک مضمضہ نہ کیا جائے اس وقت تک جنابت برقرار رہتی ہے۔نیزغسل کی تکمیل کے لیے بعد میں صرف مضمضہ کافی ہے دوبارہ غسل کرنے کی ضرورت نہیں۔

              صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص سے غسل جنابت میں مضمضہ رہ جائےاور بعد میں اس کو یاد آئے کہ میں غسل میں مضمضہ بھول گیا تھا اور اس نے فرض نماز بھی پڑھی ہو تو وہ صرف مضمضہ کرلے اس کا غسل مکمل ہوجائےگا۔چونکہ ابھی تک اس کی پاکی مکمل نہیں تھی  لہذا جو نمازیں اس نے بغیر مضمضہ والے غسل کے ساتھ پڑھی ہو ں اس کی قضا لازم ہے۔

 

"نسي المضمضة أو جزءاً من بدنه فصلى ثم تذكر، فلو نفلا لم يعد لعدم صحة شروعه.وعلیہ غسل(قوله: لعدم صحة شروعه) أي والنفل إنما تلزم إعادته بعد صحة الشروع فيه قصدا، وسكت عن الفرض لظهور أنه يلزمه الإتيان به  مطلقاً"(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الطہارۃ، باب فرض الغسل،ج:1، ص:802، دارالکتب العلمیة)


فتویٰ نمبر : 8862/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور