بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
پیدائشی مختون بچے کا دوبارہ ختنہ کرنا
سوال
اگر کوئی بچہ ایسا ہو کہ جو پیدائشی مختون ہو تو کیا اس کا دوبارہ ختنہ ضروری ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ ختنہ کرنا ایک مسنون عمل ہےجس میں بچے کے عضو تناسل کے اوپر والے چمڑے کو کاٹ کر حشفہ ظاہر کیا جاتا ہے، لیکن اگر کسی بچے کے حشفہ کے اوپر زائد چمڑا پیدائشی طور پر نہ ہو تو ڈاکٹر یا ختنہ کرنے والے کو دکھایا جائے، اگر وہ پورا مختون ہو تو دوبارہ اس کا ختنہ کرنے کی ضرورت نہیں۔
"وفي صلاة النوازل الصبي إذا لم يختن ولا يمكن أن يمد جلدته لتقطع إلا بتشديد وحشفته ظاهرة إذا رآه إنسان يراه كأنه ختن ينظر إليه الثقات وأهل البصر من الحجامين فإن قالوا هو على خلاف ما يمكن الاختتان فإنه لا يشدد عليه ويترك كذا في الذخيرة." (الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب التاسع عشر في الختان، ج:5، ص،412)