بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
مناسخہ کی ایک صورت
سوال
شہباز خان فوت ہو چکا ہے جس کے ورثا میں سے ایک بیٹا (نور محمد) اور دو بیٹیاں (خیر نور، کرم نور) زندہ موجود تھیں، پھر خیر نور کا انتقال ہوا جس کے ورثامیں سے تین بیٹے ( علی زمان، محمد زمان اور غلام سرور ) زندہ موجود ہیں، اس کے بعدکرم نور کا انتقال ہوا جس کے ورثا میں سے ایک بیٹی (اختر نساء) اور ایک بھائی (نور محمد) زندہ موجود تھے،پھر اس کے بعد نور محمد کا انتقال ہوا جس کے ورثا میں سے دو بیٹے (منصف، محمد آمین) اور تین بیٹیاں ( چاننی خانہ، صفیہ نور اور رقیہ) زندہ موجود ہیں۔ اب ان کے درمیان تقسیم میراث کس طرح ہوگی؟
جواب
میــــــــــــــ(شہباز خان)ـــــــــــــــ(168)ـــــــــــــــــت
بیٹا بیٹی بیٹی
نور محمد خیر نور کرم نور
میـــــــــــــ(خیر نور)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیٹا بیٹا بیٹا
علی زمان محمد زمان غلام سرور
14 14 14
میــــــــــــــــــــــــــ(کرم نور)ـــــــــــــــــــــت
بیٹی بھائی
اختر نساء نور محمد
21
میـــــــــ(نور محمد)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی
منصف محمد آمین چاںنی خانہ صفیہ نور رضیہ
30 30 15 51 15
الأحیــــــــــــــــــ(168)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــاء
علی زمان محمد زمان غلام سرور اختر نساء منصف محمد امین چاننی خانہ صفیہ نور رضیہ
14 14 14 21 30 30 15 15 15
بشرط صدق وثبوت اگر مرحوم (شہباز خان)کے مذکورہ بالا ورثا کے علاوہ کوئی اور قریبی وارث زندہ موجود نہ ہو اور اموات بھی درجہ بالا ترتیب سے ہوں تو بعد از ادائے حقوق متقدمہ علی الارث مرحوم کا ترکہ ایک سو اٹھاسٹھ(168)حصوں میں تقسیم کرکےعلی زمان، محمد زمان، غلام سرورمیں سے ہر ایک کو 14/168حصے، اختر نساء کو 21/168حصے، منصف، محمد آمین میں سے ہر ایک کو 30/168حصے، اور چاننی خانہ، صفیہ نور اور رضیہ میں سے ہر ایک کو 15/168حصے دیے جائیں۔
قال اللہ تعالی: "يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ" (النساء:11)
"عصبة بنفسه وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى وهم أربعة أصناف جزء الميت وأصله وجزء أبيه وجزء جده" (الفتاوی الھندیۃ، کتاب اللفرائض، الباب الثالث، فی العصبات، ج: 6، ص: 443)