بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
امام کےلیے مسجدکی بجلی،جنریٹراورپانی استعمال کرنےکاحکم
سوال
اگرامام کےلیے مسجد کےانتظامیہ نے مسجد کے اوپر یا مسجد کے قریب گھر بنا یا ہو،اور امام صاحب اپنے گھر پانی کا موٹرمسجد کی بجلی سے چلاتا ہو، توامام صاحب کےلیے مسجد کی بجلی،جنریٹر، پانی یادوسرے اشیاء کا استعمال کرنا کیسا ہے؟
جواب
واضح رہے کہ مسجد کے چندہ دہندہ گان اگر کسی خاص مصرف کےلیے چندہ دیں، تو شرعا اس کو اسی مد میں استعمال کر نا ضروری ہے۔لیکن اگر چندہ دہندہ گان کسی خاص مصرف کی تعیین کئے بغیر چندہ دیں، تو اس کو عرف کے مطابق مسجد کے مصارف و مصالح میں خرچ کیا جاسکتا ہے، چونکہ مصالح مسجد میں امام کی رہائش بھی شامل ہے ، اور ہمارے عرف میں مسجد کے امام کی رہائش گاہ کا بجلی،گیس اور پانی کے بل بھی مسجد کے مصالح میں شمار ہوتے ہیں۔لہذا امام کے لیےبقدر ضرورت مسجد کی بجلی، جنریٹر اور پانی کا استعمال کرنا جائز ہے۔تاہم امام صاحب کو چاہئے کہ بےجا اسراف سے کام نہ لے۔
وإذا أراد أن يصرف شيئا من ذلك إلى إمام المسجد أو إلى مؤذن المسجد فليس له ذلك إلا إن كان الواقف شرط ذلك في الوقف۔ (الفتاوی الهندية، كتاب الوقف، الباب الحادي عشر في المسجد، ج:2، ص:413)
وبما ذكرناه علم أنه لو بنى بيتا على سطح المسجد لسكنى الإمام فإنه لا يضر في كونه مسجدا لأنه من المصالح۔(البحرائق، كتاب الوقف، ج:5، ص:421)