بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
مسلسل قطرات نکلنے والے مریض کی نماز اور کپڑوں کا حکم
سوال
ایک شخص کو پیشاب کے قطرے آتے رہتے ہیں،بسا اوقات اس کے بدن یا کپڑوں پر جو قطرے ٹپکتے ہیں اس کی جگہ معلوم نہیں ہوتی تو کیا اس شخص پر پورے شلوار اور پاؤں کا دھونا لازم ہے ،یا ظنِ غالب کا اعتبار کرے گا ،یا یہ شخص معذور شمار ہوگا اور بغیر کسی جگہ دھوئے نماز پڑھے گا؟
جواب
نماز کی صحت اور ادائیگی کے لیے بدن اور کپڑوں کا پاک ہونا ضروری ہے ،اس لیے جب تک ممکن ہو بدن اور کپڑوں کو صاف رکھنا ضروری ہے ،چنانچہ اگر کسی شخص کو قطرے نکلنے کی بیماری ہو اور کسی وقت قطرے ٹپکنے سے بدن یا شلوار کو لگ جائے لیکن اس کی جگہ معلوم نہ ہو ،تو احتیاط اسی میں ہے کہ جتنے حصے پر نجاست لگنے کا احتمال ہو اس سارے کپڑے اور بدن کے حصے کو دھولے ،تاہم اگر اس میں حرج ہو ،یعنی یہ مرض مستقل طور پر درپیش ہو تو جس جگہ نجاست لگنے کا رجحان زیادہ ہو اس کو دھولینے سے بھی پاکی حاصل ہوگی ۔البتہ اگر قطرے نکلنے کی بیماری اس حد تک پہنچےکہ کسی ایک نماز کے پورے وقت میں اس کے لیے کپڑوں کی صفائی ممکن نہ ہو ،یعنی کپڑے دھونے یا تبدیل کرنے کے بعد نماز کے دوران پھر نجس ہونے کا خدشہ ہو ،تو پھر اس کے ساتھ بھی نماز پڑھ سکتا ہے۔
(وغسل طرف ثوب) أو بدن (أصابت نجاسة محلا منه ونسي) المحل (مطهر له وإن) وقع الغسل (بغير تحر) وهو المختار. (قوله: هو المختار) كذا في الخلاصة والفيض وجزم به في النقاية والوقاية والدرر والملتقى، ومقابله القول بالتحري والقول بغسل الكل، وعليه مشى في الظهيرية ومنية المفتي واختاره في البدائع احتياطا۔(ردالمحتار مع الدرالمختار ، كتاب الطهارة ، باب الأنجاس ، ج:1 ص: 543)
مريض مجروح تحته ثياب نجسة، إن كان بحال لا يبسط تحته شيء إلا تنجس من ساعته له أن يصلي على حاله، وكذا لو لم يتنجس الثاني إلا أنه يزداد مرضه له أن يصلي فيه ۔۔والظاهر أن المراد بقوله " من ساعته " أن يتنجس نجاسة مانعة قبل الفراغ من الصلاة۔(ردالمحتار على الدرالمختار ، كتاب الطهارة ، باب الحيض ، مطلب في أحكام المعذور ، ج:1 ص: 507)