بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

تجارتی پلاٹ کے دین میں زکوۃ


سوال

 میں نے پانچ سال کے اقساط پر ایک تجارتی پلاٹ خریدا ہے۔ ہر مہینہ بیس ہزار(۲۰۰۰۰)روپے قسط دے رہا ہوں اور اب  کے تک پانچ قسط ادا کر چکا ہوں ۔کیا بقیہ رقم قرض شمار ہو کر مالِ نصاب سے منہا ہو گی یا نہیں ؟

جواب

            واضح رہے کہ جو قرض ایسی چیز کے بدلے لازم ہو جس میں سال گزرنے پر زکوۃ واجب ہوتی ہو جیسے سونا، چاندی یا مال تجارت تو یہ قرض مانعِ زکوۃ ہوکر  مال نصاب سے منہا کیا جائے گا، کیونکہ اگر اس کو منہا نہ کیا جائے تو ایک ہی مال میں دگنی زکوۃ لازم ہوجائے گی۔

           لہذا صورتِ مسئولہ میں تجارتی پلاٹ کے ملکیت میں آنے کےبعد چونکہ اس میں زکوۃ واجب ہوتی ہے ، اس لیے اس کے دین کو مالِ نصاب سے منہا کیا جائے گا۔

 

عن حسن بن علي، عن أمه فاطمة، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "لا ثناء في الصدقة"۔(المصنف في الأحاديث والآثار لابن أبي شيبة، كتاب الزكوة، باب من قال لاتؤخذ الصدقة في السنة إلا مرة واحدة، رقم الحديث:3، ج:3،ص:107)

"لا ثني في الصدقة" أي لاتؤخذ الزكاة مرتين في السنة، والثني بالكسر والقصر: أن يفعل الشيء مرتين۔(النهاية في غريب الحديث والأثر، باب الثاء مع النون، ج:1، ص:224، مطبع: دار إحياء التراث العربي)

والثني بكسر الثاء المثلثة وفتح النون في آخره ألف مقصورة وهو أخذ الصدقة مرتين في عام كما في القاموس ومنه كما في المغرب قوله لا ثني في الصدقة۔(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب  الزكوة، ج:3،ص:194)


فتویٰ نمبر : 8858/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور