بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
باغ کی بیع میں چند کریٹ پھل کو مستثنی کرنا
سوال
ہم پھلوں کا باغ فروخت کر کے خریدار سے کہتے ہیں کہ ہمیں چار کریٹ پھل دینے ہوں گے،گویا کہ چار کریٹ کو ہم اس بیع کے عقد سے مستثنیٰ کر دیتے ہیں۔ اب وه خریدارچار کریٹ پھل جس میں اس کی طر ف سے کریٹ اور اس کریٹ پر آنے والے اخراجات بھی اس خریدار کی طرف سے ہوتے ہیں، کیا ان چار کریٹ پھل کا استثناء جائز ہے یا نہیں؟ اور اس طریقے سے پھل کا لینا ،فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
شریعت مطہرہ کی رو سے بیع کی صحت کے لیے ضروری ہے کہ مبیع اور ثمن دونوں معلوم ہوں، اور اس ميں کسی قسم کی ایسی جہالت نہ ہو جو مفضی الی النزاع ہو۔
صورت مسؤلہ میں باغ كى بيع ميں چند کریٹ پھل کو مستثنیٰ قرار دینا جائز ہے ۔بشرطیکہ یہ بات یقینی ہو کہ باغ کا مجموعی پھل اس مقدار سے زیادہ ہے، اور مستثنیٰ پھل کے اوصاف اس طور پر متعین کیے جائیں کہ بعد میں نزاع کا سبب نہ بنے۔جہاں تک کریٹ کے اخراجات کا تعلق ہے،تو اگر مشتری اپنی طرف سے تبرعاً یہ اخراجات برداشت کر لے تواس میں کوئی قباحت نہیں، لیکن اگر مشتری اس کا عوض طلب کر نا چاہے تو پھر بائع اس کا عوض دے دے، یا بغیر کریٹ کے اپنا پھل اٹھا لے۔
ومنها أن يكون المبيع معلوما وثمنه معلوما علما يمنع من المنازعة فإن كان أحدهما مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة فسد البيع وإن كان مجهولا جهالة لا تفضي إلى المنازعة لا يفسد۔(بدائع الصنائع، كتاب البيوع، فصل في شروط الصحة،ج6،ص592)
2۔۔(ما جاز إيراد العقد عليه بانفراده صح استثناؤه منه)۔۔۔۔فرع على هذه القاعدة بقوله: (فصح استثناء) قفيز من صبرة وشاة معينة من قطيع و (أرطال معلومة من بيع تمر نخلة)۔۔۔۔لصحة إيراد العقد عليها. ولو الثمر على رءوس النخل على الظاهر۔۔۔۔قوله: (وأرطال معلومة) أفاد أن محل الاختلاف الآتي ما إذا استثنى معينا، فإن استثنى جزءا كربع وثلث فإنه صحيح اتفاقا كما في البحر عن البدائع. ومقتضاه أنه لو علم أنه يبقى أكثر من المستثنى يصح۔(ردالمحتار على الدرالمختارمع تنويرالأبصار،كتاب البيوع، مطلب فساد المتضمن يوجب فسادالمتضمن، ج7،ص90،91)