بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

فینسی مرغیوں میں وعدہ بیع کی ایک صورت


سوال

میں فینسی مرغیوں کا کاروبار کرتا ہو ں۔ بہت سے لوگ اس کاروبار کو شرو ع کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کاروبار میں کسی کو نہیں جانتے ہیں  کہ ان پر فروخت کریں۔ ان کے لیے میں نے  ایک پروگرام شروع کرنے کا ارادہ کیا ہے کہ جو حضرات   مجھ سے چوزے خرید کر بڑا ہونے پر خود ان کو بیچ سکتے  ہیں وہ تو آزاد ہیں ، لیکن جن لوگوں کے پاس کسی کو بیچنے کا انتظام نہیں  تو میں چند شرائط کے ساتھ  ان سے یہ مرغ اور مرغیاں واپس خریدوں  گا۔ شرائط درجہ ذیل ہیں:1-چوزے خریدنے کے بعد کم از کم تین ماہ بعد میں ان سے خریدوں گا اس سے پہلے نہیں، کیونکہ تین ماہ بعد میں ان کو پاکستان کے دوسرے شہروں اور دور دروز علاقوں میں بھیج سکتا ہوں۔2-بیمار مرغ اور مرغیاں واپس نہیں لوں گا ۔3-مجھ سے خریدنے کے بعد اگر کوئی چوزہ مر جاتا ہےتو اس کی تصویر مجھے بھیجنے لازمی ہوگی، تاکہ ایسا نہ ہو کہ   وہ اچھی کوالٹی کے مرغ اور مرغیاں اپنے پاس رکھیں اور ادنی کوالٹی مجھے بیچ دیں  یا مرغیاں اپنے پاس رکھیں   اور مرغ مجھے بیچ دیں ۔4-جتنے مجھ سے خریدے ہوں سب واپس بیچ دیں گے۔

ان کے لیے نفع کی میں نے یہ ترتیب رکھی ہے  کہ اگر بالفرض وہ مجھ سے ایک چوزہ 600 روپے میں خرید لیتے ہیں تو اس کی آدھی قیمت یعنی 300 روپے ماہانہ نفع مقرر کیا ہے ۔ جب میں ان سے تین ماہ بعد واپس خرید لیتا ہوں تو اصل قیمت600روپے اور ماہانہ 300روپے کے حساب سے نفع900روپے یعنی کل 1500 روپے میں ان سے خرید لوں گا۔کیا شریعت کی روشنی میں یہ معاملہ درست ہے؟

جواب

                واضح رہے کہ مستقبل کی کسی تاریخ کو کوئی معاملہ  کرنے کا وعدہ کرنا وعدہ بیع کہلاتا ہے۔ وعدہ بیع سے نہ فروخت کنندہ ثمن(رقم)کا مالک بنتا ہے اور نہ ہی خریدار مبیع(فروخت کی گئی چیز)کا مالک بنتا ہے ۔اس طرح وعدہ کرنے کے بعداس وعدہ کی پاسداری کرنا شرعی واخلاقی فریضہ ہے، البتہ عقد کے لیے مستقل ایجاب وقبول  کیا جائے گا۔ نیز  کسی واقعی عذر کی وجہ سے وعدہ پورا نہ کرنے کی بھی گنجائش ہوتی ہے ۔

                صورتِ مسئولہ میں فینسی مرغیوں کے کاروبار میں فروخت کنندہ کا بعض خریداروں سے یہ طے کرنا کہ اگر وہ ان مرغیوں کو آگے نہ بیچ سکیں تو فروخت کنندہ ہی ان سے مخصوص وقت کے بعد واپس خرید لے گا تو یہ خریدنے کا وعدہ ہے جو کہ شرعا جائز ہے  اوراپنے وعدے کو کسی معقول شرط کے ساتھ مشروط کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔

قال اللہ تعالی:وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا۔(الإسراء: 34)

عن عبادة بن الصامت قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " اضمنوا لي ستا من أنفسكم أضمن لكم الجنة: اصدقوا إذا حدثتم، وأوفوا إذا وعدتم، وأدوا إذا اؤتمنتم، واحفظوا فروجكم، وغضوا أبصاركم، وكفوا أيديكم "۔(السنن الكبرى للبيهقي، باب ما جاء في اللترغيب في أداء الأمانات، ص:6،ص:288)

قال رحمه الله ( لا ينعقد بلفظين .أحدهما الماضي ، والآخر بلفظ المستقبل ) وإنما لا ينعقد بذلك لأن النبي صلى الله عليه وسلم استعمل فيه لفظ الماضي الذي يدل على تحقق وجوده فكان الانعقاد مقتصرا عليه ، ولأن لفظ المستقبل إن كان من جانب البائع كان عدة لا بيعا ، وإن كان من جانب المشتري كان مساومة ۔(العناية شرح الهداية، كتاب البيوع، ج:3،ص:45)


فتویٰ نمبر : 2853/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور