بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
مدرسہ کی عمارت فروخت کرکے دوسری جگہ خریدنا
سوال
ہمارا مدرسہ تقریباً65×40زمینی رقبہ پر تعمیر شدہ ہے اور مہتمم صاحب نے مدرسہ ہی کے پیسوں سے یہ جگہ مدرسے کے لیے خریدی ہے اور اس عمارت میں تعلیم کا سلسلہ شروع ہے ،البتہ یہ تعمیر مدرسہ کے لیے ناکافی ہے ، حفظ کے درسگاہوں اور دیگر شعبہ جات کے لیے کلاسوں اوردارالاقامہ کی کمی ہے نماز پڑھنے کے لیے مسجد بھی نہیں اسی طرح وضوخانے وغیرہ بھی کم ہیں اور نہ توسیع کے لیے زمین خریدنے کی گنجائش ہے ۔نیز یہاں پر اکثر لوگ مدرسہ کے مخالف ہیں جس کی وجہ سے مدرسہ کا انتظامیہ اور اساتذہ سب پریشان ہیں ۔تو کیا ان وجوہات کے سبب ہمارے لیے چندہ سے تعمیر شدہ جگہ کو فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ وقف تام ہونے کے بعد وقف شدہ زمین سے جب تک فائدہ اٹھانا ممکن ہوتو کسی دوسری زمین سے اس کا استبدال جائز نہیں۔ اور وقف تام ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ موقوفہ چیز جس مقصد کے لیے وقف کی گئی ہو اس میں کم ازکم ایک مرتبہ استعمال ہوجائے،چنانچہ مدرسہ کے لیے وقف کی گئی زمین کاوقف اس وقت تام متصور ہوگا جب اس میں تعلیمی سلسلہ شروع ہوجائے۔
صورت مسئولہ کے مطابق چندہ کی رقم سےخریدی گئی زمین کو مدرسہ کے لیے وقف کرنے کے بعدجب اس میں تعلیم کا سلسلہ شروع ہو چکا ہےتو اس میں وقف تام ہوچکا ہےاب جب کہ اس میں تعلیم کا سلسلہ شروع ہے تو محض توسیع کے لیے جگہ نہ ملنے یا اہل محلہ کی مخالفت کو بنیاد بناکر اس جگہ کو بیچنا یا استبدال کرنا شرعاً جائز نہیں۔
(فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن) (قوله: لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه۔(الدرالمختار مع ردالمحتار، كتاب الوقف ، ج: 6 ص: 531 ، دارالكتب العلمية)
وتسليم كل شيء بحسبه، ففي المقبرة بدفن واحد وفي السقاية بشربه وفي الخان بنزوله كما في الإسعاف، واشتراط الجماعة لأنها المقصودة من المسجد۔(ردالمحتار ، كتاب الوقف ، ج: 6 ص: 546 ، دارالكتب العلمية)