بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

رخصتی كےبعدطلاق واقع ہونےكی صورت ميں طےشده مہركاحكم


سوال

اگرکوئی شخص نکاح کرتےوقت کچھ نقدرقم،مثلا:ڈھائی لاکھ روپےاورکچھ زیورات،مثلا:5تولے سونابطور مہردینا طےکرلےاورپھررخصتی کےبعداس بیوی کوطلاق دےدےتوکیاشوہرکےذمےوہ طےشدہ مہراس بیوی کودینالازم ہوگا؟

جواب

          مہربیوی کاحق ہے جوشوہرکےذمےنکاح کرنےسے واجب ہوجاتاہےاورمیاں بیوی کےمابین ازدواجی تعلقات قائم ہونےسےپورامہرمؤکدہوجاتاہے۔

         صورت مسؤلہ کےمطابق اگرکوئی شخص کسی عورت سےنکاح کرتےوقت بطورمہرکچھ نقدرقم،مثلا:ڈھائی لاکھ روپے اور کچھ  زیورات،مثلا:5تولےسونامقررکردےاوررخصتی ہوکران دونوں میں ازدواجی تعلقات قائم ہوجائے توشوہر کے ذمےپورامہردینالازم ہوجاتاہے،خواہ ان کےمابین نکاح   برقراررہےیاطلاق وغیرہ سےختم ہوجائے۔

 

"وإذا خلا الرجل بامرأته وليس هناك مانع من الوطء ثم طلقها فلها كمال المهر "(الهداية، كتاب النكاح، باب المهر، ج:3، ص:58، البشرى)


فتویٰ نمبر : 6255/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور