بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
صبح صادق سے پہلےاذان دینا
سوال
رمضان المبارک میں بوقتِ سحری احیائے سنت کی نیت سے اذان ِشرعی دینا تاکہ لوگ سحری کے لیے اٹھ جائیں ۔شرعا جائز ہے یا نہیں ؟
جواب
اذان ِفجر سے پہلے سحری کے وقت اذان صحیح احادیث سے ثابت ہے ۔حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہ میں فجر سے پہلے اذان دینے کا تذکرہ ہے ،مگر یہ اذان فرض نماز کے وقت کا اعلان کرنے اور لوگوں کو نماز میں شرکت کی دعوت دینے کے لیے نہیں ۔بلکہ احادیث ِمبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سوئے ہوئے کو جگانے اور قیام کرنے والے کو لوٹانے کی خاطر ہے ۔ علامہ بدر الدین عینی ؒ نے متعدد احادیث مبارکہ کی روشنی میں "عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری ج5ص129تا137"میں دور ِنبوی سحری کے وقت اذان دینے کے چند مقاصد ذکر کیے ہیں کہ اس سے سوئے ہوئے جاگ اٹھتے،تہجد پڑھنے والے تھوڑا آرام کرتےاور صبح کی نماز کے لیے تروتازہ ہوجاتے ،وتر نماز چھوڑے ہوئے وتر پڑھ لیتے ،فرضی یا نفلی روزہ رکھنے والے سحری کا کھاناکھالیتے وغیرہ۔معلوم ہو اکہ یہ اذان نہ نماز کے لیے تھی اور نہ ہی صرف سحری کھانے کے لیے بلکہ اس کے ساتھ متعدد مصالح وابستہ تھے جن کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے اس کی اجازت دی تھی۔
صورت ِمسؤلہ کے مطابق صبح صادق سے پہلے اذان دینا مستقل سنت ِمؤکدہ نہیں،اور نہ ہی اذان کی اس مشروعیت کو صرف سحری کے ساتھ مخصوص سمجھنا درست ہے ،اس لیے کہ عہد ِنبوی ﷺ میں مذکورہ بالا مصالح واغراض کے پیش ِنظر صبح صادق سے پہلے اذان دی جاتی تھی ۔پس روایا ت کی روشنی میں گوکہ صبح صادق سے پہلے اذان دینا جائز ہے تاہم ہمارے معاشرے میں چونکہ اس کا تعامل نہیں اس لیے عین ممکن ہے کہ اس وقت اذان دینے سے لوگ اشتباہ اور غلط فہمی کے شکار ہو کرنماز فجر ادا کرنے لگیں جو کہ اس وقت میں پڑھنا جائز نہیں۔لہذا صبح صادق سے پہلے اذان کو سنت ِمؤکدہ سمجھنا اور اس پر عمل کو مستقل احیاے سنت کا درجہ دینا ٹھیک نہیں ،اس لیے کہ ہر جائز ومشروع امر مستقل سنت کا درجہ نہیں رکھتا بلکہ شرعاً بعض ایسے جائز امور سے اجتناب ضروری ہوتا ہے جو باہمی فتنہ وفساد اور غلط فہمی کا سبب بنتے ہو ں ۔چنانچہ صحیح بخاری کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا "اگر تیری قوم کے کفر کا زمانہ نیانہ ہو تا(یعنی قریب نہ گزرا ہوتا )تو میں کعبہ کو تو ڑ دیتا اورحضرت ابراہیم ؑ کے بنیادوں پر اس کو تعمیر کردیتا (جو اس کی اصل بنیادیں تھیں )"۔معلوم ہوا کہ حضور ﷺ نے ایک جائز اور مستحسن عمل کو فتنہ وفساد کے اندیشہ سے چھوڑ دیا ۔البتہ اگر کہیں پر لوگ سحری کے وقت اذان دینے کے مذکورہ مقاصد سے آگاہ ہوں اور اشتباہ اور غلط فہمی کا اندیشہ بھی نہ ہو تو پھر اگر وہاں اذان دی جائے تو جائز ہے ۔
عن عبد الله بن مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا يمنعن أحدكم - أو أحدا منكم - أذان بلال من سحوره، فإنه يؤذن - أو ينادي بليل - ليرجع قائمكم، ولينبه نائمكم، وليس أن يقول الفجر - أو الصبح -» وقال بأصابعه ورفعها إلى فوق وطأطأ إلى أسفل حتى يقول هكذا وقال زهير: «بسبابتيه إحداهما فوق الأخرى، ثم مدها عن يمينه وشماله»۔(صحيح البخاري،كتاب الصلاة،باب الأذان قبل الفجر،رقم الحديث621،ج1ص127)
وأما الجواب عن أذان بلال الذي كان يؤذن بالليل قبل دخول الوقت فلم يكن ذلك لأجل الصلاة بل إنما كان ذلك لينتبه النائم وليتسحر الصائم وليرجع الغائب بين ذلك۔(عمدة القاري،شرح صحيح البخاري،ج5ص131)
ومعناه يرد القائم أي المتهجد إلى راحته ليقوم إلى صلاة الصبح نشيطا أو يكون له حاجة إلى الصيام فيتسحر۔۔۔ويوقظ نائمكم ليتأهب للصبح بفعل ما أراده من تهجد قليل أو تسحر أو اغتسال قلت أو لإيتار إن كان نام عن الوتر ۔(أيضا،ص134)
عن عائشة رضي الله عنها، قالت: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لولا حداثة قومك بالكفر لنقضت [ص:147] البيت، ثم لبنيته على أساس إبراهيم عليه السلام، فإن قريشا استقصرت بناءه وجعلت له خلفا»۔(صحيح البخاري،باب فضل مكةوبنيانها،ج2ص146)
درء المفاسد أولى من جلب المصالح،فإذا تعارضت مفسدة ومصلحةقدم دفع المفسدة غالبا ؛لأن اعتناء الشرع بالمنهيات أشد من اعتناءه بالمأمورات،ولذا قال عليه السلام إذا أمرتكم بشيئ فأتوا منه ما استطعتم وإذا نهيتكم عن شيئ فاجتنبوه۔(شرح الأشباه والنظائر،ج1ص264)