بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

گندم کی کٹائی کی وجہ سے روزہ افطارکرنا


سوال

درجہ ذیل صورت حال کےپیش نظرکیاایک غریب کاشتکارجوروزہ کی حالت میں گندم کی کٹائی سےقاصرہو،گندم کی کٹائی کےلیےروزہ چھوڑسکتاہےیانہیں؟ایک عالم دین نےجوازکافتوی دیاہے،جبکہ فقہاےکرام نےروزہ چھوڑنے کےلیے گندم کےضیاع کااندیشہ ہوناضروری قراردیاہے ،لیکن دور جدیدمیں خصوصا ہمارےعلاقے میں گندم ضائع ہونے کااحتمال باقی نہیں رہا،اس لیےکہ گندم کٹائی کےلیےآلات ایجادہوئےہیں اور ہمارے علاقےمیں عام طوپراستعمال بھی ہوتےہیں ،البتہ یہ بات ضرورہےکہ منافع پرتھوڑابہت اثرپڑتاہے،لیکن کاشتکاری سےلے کرفصل تیار ہونےتک  تمام ترضروریات آلات ہی کےذریعےسےلوگ پوری کرتےہیں یعنی ٹریکٹر، ٹرالی اورتھریشروغیرہ اوران خرچوں کووہ برداشت کرتےہیں۔اب اگرکٹائی بھی آلات کےذریعےسےکرلےتوخرچہ تھوڑاسابڑھ جائےگا اور منافع میں کچھ کمی واقع ہوگی اوراگربذات خودکٹائی کرلےتوکٹائی کاخرچہ بچ جائےگااورمنافع کچھ زیادہ ہوں گے،نیزکٹائی کرنےوالوں کوعمومااجرت فصل تیارہونےکےبعددیتےہیں۔اب غریب کاشتکارفصل کاکچھ حصہ فروخت کرکےان کو اجرت دےگا،جس کی وجہ سے اس کے منافع میں کمی واقع ہوگی۔اب درجہ ذیل باتوں میں رہنمائی درکارہے:

1.مذکورہ صورت حال میں غریب آدمی گندم کی کٹائی کےدوران روزہ چھوڑسکتاہےیانہیں؟

2.مذکورہ مسئلہ کےجوازکافتوی کیاجمعہ کےدن منبرپر بیان  کرناجائزہے؟

3.اگرجائزہوتوکوئی اشکال نہیں اوراگرناجائزہواورپھربھی  یہ عالم دین اپنی بات پرڈٹارہےتو اس کےمتعلق کیاحکم ہے؟

جواب

      واضح رہے کہ روزہ ایک اہم عبادت ہےجوہرعاقل،بالغ مسلمان پرفرض ہے   ۔بغیرکسی عذرکےافطارکرناجائزنہیں، تاہم کسی عذر کےدرپیش ہونےپرافطارکرنےکی گنجائش پائی جاتی ہے،چنانچہ فقہاےکرام  نےلکھاہےکہ اگرکوئی شخص کسی پرمشقت کسب معاش میں مشغول ہونےکی وجہ سےروزہ رکھنےسےقاصرہواوراس کسب کےعلاوہ اس کےپاس کوئی ایسا ذریعۂ معاش نہ ہوجس میں وہ روزہ رکھ سکتاہواورنہ اس کےپاس اتنانان نفقہ ہوکہ اس سےماہ رمضان میں گزربسرہوسکےتوایسی حالت میں اس کےلیےافطارکرنےکی گنجائش ہے،لیکن بعدمیں اس کےذمےقضالازم اورضروری ہے۔

         صورتِ مسؤلہ کےمطابق اگرکوئی کاشتکارگندم کی کٹائی کی وجہ سےروزہ رکھنےسےقاصرہواورماہ رمضان سےتاخیرکی صورت میں فصل کےضائع ہونےکا اندیشہ ہو،نیزوہ  کسی شخص یاجدیدآلات کےذریعےاجرت پرکٹائی کرانے کی بھی استطاعت نہ  رکھتاہو،توایسےشخص کےلیےروزہ افطارکرنےکی شرعاگنجائش ہے،تاہم بعدمیں اس کےذمےفوت شدہ روزوں کی قضا لازم ہوگی۔

      جہاں  تک مسئلہ مذکورہ کامنبرپربیان  کرنےکی بات ہے تودرجہ بالا شرائط کےساتھ بیان کرنےمیں کوئی حرج نہیں۔

 

وقال الرملي: وفي جامع الفتاوى ولو ضعف عن الصوم لاشتغاله بالمعيشة فله أن يفطر ويطعم لكل يوم نصف صاع اهـ أي إذا لم يدرك عدة من أيام أخر يمكنه الصوم فيها وإلا وجب عليه القضاء، وعلى هذا الحصاد إذا لم يقدر عليه مع الصوم ويهلك الزرع بالتأخير لا شك في جواز الفطر والقضاء وكذا الخباز..... والذي ينبغي في مسألة المحترف حيث كان الظاهر أن ما مر من تفقهات المشايخ لا من منقول المذهب أن يقال إذا كان عنده ما يكفيه وعياله لا يحل له الفطر؛ لأنه يحرم عليه السؤال من الناس فالفطر أولى وإلا فله العمل بقدر ما يكفيه، ولو أداه إلى الفطر يحل له إذا لم يمكنه العمل في غير ذلك مما لا يؤديه إلى الفطر......وكذا لو خاف هلاك زرعه أو سرقته ولم يجد من يعمل له بأجرة المثل، وهو يقدر عليها؛ لأن له قطع الصلاة لأقل من ذلك۔(ردالمحتارعلی ھامش الدرالمختار، کتاب الصوم، باب مایفسد الصوم ومالایفسد، فروع المسائل،ج:3، ص:401، دارالکتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 8812/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور