بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
مناسخہ کی ایک صورت
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ گل ستار فوت ہو گیا ، وفات کے وقت اس کے ورثا میں اس کی دو بیویاں(تاج مینہ اور ختم نیوہ)، ایک بہن(ستار بی بی)، اور تین علاتی چچا(جان محمد، خیر محمد اور عقل محمد) زندہ موجود تھے۔
اس کے بعد مذکورہ افراد میں سے اس کی بیوی (تاج مینہ) فوت ہو گئی، جس کے ورثا میں ماں (صبر بی بی)، ایک بھائی(اختر محمد) اور تین بہنیں(امیر پری، شیریں بیگم اور اختر بیگم) زندہ موجود تھے۔شریعت کے مطابق وراثت کی تقسیم فرمائیں.
جواب
میــــــــــ(گل ستار)(48)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیوہ بیوہ بہن علاتی چچا علاتی چچا علاتی چچا
تاج مینہ ختم نیوہ ستاربی بی جان محمد خیر محمد عقل محمد
6 24 4 4 4
میـــــــــــــــــ(تاج مینہ)ــــــــــــــــــــــــــــــت
ماں بھائی بہن بہن بہن
صبر بی بی اختر محمد امیر پری شیریں بیگم اختر بیگم
1 2 1 1 1
الاحیــــــــــــــــــــ(48)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــاء
ختم نیوہ ستار بی بی جان محمد خیر محمد عقل محمد صبر بی بی اختر محمد امیرپری شیریں بیگم اختر بیگم
6 24 4 4 4 1 2 1 1 1
بشرطِ صدق و ثبوت اگر گل ستار مرحوم کے مذکورہ بالا ورثا کے علاوہ اور کوئی قریبی وارث زندہ موجود نہ ہواور اموات بھی مندرجہ بالا ترتیب سے ہوں تو بعد از ادائے حقوقِ متقدمہ علی الارث مرحوم کا ترکہ 48 حصوں میں تقسیم کر کے ختم نیوہ کو6/48حصے، ستار بی بی کو 24/48حصے، جان محمد، خیر محمد اور عقل محمد میں سے ہر ایک کو 4/48جصے، صبر بی بی کو 1/48حصہ، اختر محمد کو 2/48حصے جب کہ امیر پری، شیریں بیگم، اور اختر بیگم میں سے ہر ایک کو 1/48 حصہ دیا جائے گا۔
قال الله تعالى: ﴿فإن كان له إخوة فلأمه السدس﴾ (النساء: 11)
وقال: ﴿ولهن الربع مما تركتم إن لم يكن لكم ولد﴾ (النساء:2 1)
وقال: ﴿إن امرؤ هلك ليس له ولد وله أخت فلها نصف ما ترك﴾ (النساء:176)
وقال: ﴿وإن كانوا إخوة رجالا ونساء فللذكر مثل حظ الأنثيين﴾ (النساء:176)
فأقرب العصبات الابن ...ثم العم لأب. (الفتاوی الہندیۃ، کتاب الفرائض، الباب الثالث، ج: 6 ص: 451)