بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
مدرسہ کے لیے وقف شدہ زمین کا استبدال
سوال
ایک شخص نے 60 مرلہ پلاٹ مدرسہ کے لیے وقف کیا ہے ، اور اس میں سے تقریباً 10مرلے پلاٹ پر تعمیر بھی کرچکا ہے، جس میں گاؤں کے بچوں نے اسباق پڑھنا بھی شروع کیا ہے، اب اس پلاٹ کے دونوں جانب دیگر مدرسے بن گئے ہیں ، جس سے مقابلہ کی صورت حال پیدا ہوگئی ہے، تو کیا واقف کے لیے اس زمین کا کسی دوسری زمین سے استبدال شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ وقف تام ہونے کے بعد وقف شدہ زمین سے جب تک فائدہ اٹھانا ممکن ہو کسی دوسری زمین سے اس کا استبدال جائز نہیں ، اور وقف تام ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ موقوفہ چیز جس مقصد کے لیے وقف کی گئی ہو ، اس میں کم از کم ایک مرتبہ استعمال ہوجائے ، چنانچہ مدرسہ کے لیے وقف کی گئی زمین کا وقف اس وقت تام متصور ہوگا جب اس میں تعلیمی سلسلہ شروع ہوجائے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص نے زمین مدرسہ کے لیے وقف کی ہو، اور اس میں تعلیم کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہو ، تو وقف تام ہونے کی وجہ سے اب اس کو دوسری زمین سے بدلنا جائز نہیں۔
(ويزول ملكه عن المسجد والمصلى ) بالفعل و ( بقوله جعلته مسجدا ) عند الثاني ( وشرط محمد ) والإمام ( الصلاة فيه )۔۔۔۔ لأنه لا بد من التسليم عندهما خلافا لأبي يوسف وتسليم كل شيء بحبسه ففي المقبرة بدفن واحد وفي السقاية بشربه وفي الخان بنزوله كما في الإسعاف واشتراط الجماعة لأنها المقصودة من المسجد ۔(الدر المختار مع رد المحتار ، كتاب الوقف ، ج : 6 ص : 546 )
ولو صارت الأرض بحال لا ينتفع بها والمعتمد أنه بلا شرط يجوز للقاضي بشرط أن يخرج عن الانتفاع بالكلية وأن لا يكون هناك ريع للوقف يعمر به وأن لا يكون البيع بغبن فاحش وشرط في الإسعاف أن يكون المستبدل قاضي الجنة المفسر بذي العلم والعمل لئلا يحصل التطرق إلى إبطال أوقاف المسلمين كما هو الغالب في زماننا ا هـ ويجب أن يزاد آخر في زماننا وهو أن يستبدل بعقار لا بدراهم ودنانير۔)رد المحتار ، كتاب الوقف ، مطلب في اشتراط الإدخال والإخراج ، ج : 6 ص : 586 )