بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
ایسی زمین وقف کرنا جس کا کوئی راستہ نہ ہو
سوال
اگر کسی شخص نے اپنی زمین کا کچھ حصہ مدرسہ کے لیے وقف کیا ، لیکن اس زمین کا کوئی راستہ نہیں ہے ، اور نہ ہی قرب وجوار میں کوئی مستقل راستہ ہے ، تو ایسی زمین کا مدرسہ کے لیے وقف کرنا کیسا ہے ؟
جواب
واضح رہے کہ وقف سے غرض وقف شدہ چیز کو واقف کی مطلوبہ مقصد میں استعمال کرنا ہوتا ہے، چنانچہ اگر وقف شدہ چیز سے مطلوبہ مقصد کا تحقق اور واقف کی منشا کی تکمیل ممکن نہ ہو ، تو موقوفہ چیز واقف کی ملکیت سے خارج نہ ہوگی ۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص کسی ایسی زمین کو مدرسہ کے لیے وقف کرنا چاہے جس کا کوئی راستہ نہ ہو ، جس کی وجہ سے اس سے نفع لینا اور مطلوبہ مقصد میں استعمال کرنا ممکن نہ ہو ، تو ایسی زمین وقف کرنے سے واقف کی ملکیت سے خارج نہ ہوگی ، اس لیے واقف کو چاہیے کہ وہ اسی زمین کے لیے راستے کا بندوبست کرے یا پھر کسی ایسی زمین کا انتخاب کرے جس سے انتفاع لینا اور مطلوبہ مقصد میں استعمال کرنا ممکن ہو ۔
ومن بنى مسجدا لم يزل ملكه عنه حتى يفرزه عن ملكه بطريقه ويأذن بالصلاة فيه إذا صلى فيه واحد زال ملكه ۔(الهداية كتاب الوقف ، فصل في المسجد ، ج :2 ص : 453)
أَمَّا الْإِفْرَازُ فَلِأَنَّهُ لَا يَخْلُصُ لِلَّهِ إلَّا بِهِ لِأَنَّهُ ما دَامَ حَقُّ الْعَبْدِ مُتَعَلِّقًا بِهِ لم يَتَحَرَّرْ لِلَّهِ وَأَمَّا الصَّلَاةُ فيه فَلِأَنَّهُ يُشْتَرَطُ التَّسْلِيمُ عِنْدَ أبي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ فإذا تَعَذَّرَ يُقَامُ تَحَقُّقُ الْمَقْصُودِ مَقَامَهُ أو يُشْتَرَطُ فيه تَسْلِيمُ نَوْعِهِ وَذَلِكَ في الْمَسْجِدِ بِالصَّلَاةِ فيه ۔(تبيين الحقائق ، كتاب الوقف ، فصل في المسجد، ج: 2 ص : 453)
والحاصل: أن التسليم على قول من يشترط التسليم وهو محمد يكون بأحد طريقتين: إما بإثبات اليد للقيم عليها أو بحصول المقصود وذلك بالسكنى في مسألة الدار، وبالنزول في مسألة الخان، وبالدفن في مسألة المقبرة وما أشبهه ذلك.(المحيط البرهاني ، كتاب الوقف ، الفصل الثاني والعشرون ، ج :ؒ7 ص: 142)