بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
دکان دارکاکسی چیزکوکلوسےکم مقداردینےکی صورت میں زیادہ قیمت لگانا
سوال
بعض دکان دار جب کوئی چیزکلوکےحساب سےفروخت کرتےہیں توحکومت کی جانب سےمقررشدہ نرخ کےمطابق فروخت کرتےہیں،لیکن وہی چیزجب وہ کلوسےکم مقدارمیں فروخت کرتےہیں تواس وقت وہ مقررشدہ نرخ کالحاظ نہیں رکھتے،ان کایہ مذکورہ عمل شرعاکیساہے؟
جواب
واضح رہےکہ بیع باہمی رضامندی کےساتھ مال کےمال سےتبادلےکانام ہے۔بائع اورمشتری مبیع کی جس مقدارکےعوض جوقیمت طےکرناچاہیں،طےکرسکتےہیں،لیکن اگرکہیں تاجرطبقہ اپنی اجارہ داری قائم کرکےلوگوں سےمن مانی قیمت وصول کرتاہو،توایسی صورت حال میں حکومت مفادعامہ کےتحفظ کےلیےاہل رائےاورماہرین کےمشورہ سےتسعیر (ریٹ مقررکرنے)کامجازہوتی ہےاور اس صورت میں جس طرح قانونااس کی پاسداری اورپابندی ضروری ہوتی ہےاس طرح شرعابھی اس کی پابندی ضروری ہوگی۔
صورت مسؤلہ کےمطابق اگر دکاندارکوئی چیزکلوسےکم مقدارمیں فروخت کرتےوقت حکومت کی جانب سے مقررشدہ نرخ کالحاظ نہ رکھتاہو،بلکہ اس سےزائدقیمت پرفروخت کرتاہو اورمشتری اس پرراضی نہ ہویابائع نےاس کوبےخبر رکھاہو تویہ بیع شرعاجائز نہیں، لیکن اگرگاہک کوقیمت بتادےاوروہ اس پر راضی ہوتویہ عقدشرعادرست شمارہوگااورحاصل شدہ منافع کوبھی حرام نہیں کہاجائے گا،تاہم قانون کی خلاف ورزی کرنےکی وجہ سےدکان دارگناہ گارہوگا۔
أما تعريفه فمبادلة المال بالمال بالتراضي.(الفتاوی الھندية، کتاب البیوع، ج:3، ص:5، دارالفکر)
(ومنها) أن يكون المبيع معلوما وثمنه معلوما علما يمنع من المنازعة. فإن كان أحدهما مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة فسد البيع. (بدائع الصنائع في ترتیب الشرائع، کتاب البیوع، فصل في شرائط الصحة، ج:6، ص:592، دارالکتب العلمية)
قال: "ولا ينبغي للسلطان أن يسعر على الناس" لقوله عليه الصلاة والسلام: "لا تسعروا فإن الله هو المسعر القابض الباسط الرازق" ولأن الثمن حق العاقد فإليه تقديره فلا ينبغي للإمام أن يتعرض لحقه إلا إذا تعلق به دفع ضرر العامة على ما نبين..... فإن كان أرباب الطعام يتحكمون ويتعدون عن القيمة تعديا فاحشا، وعجز القاضي عن صيانة حقوق المسلمين إلا بالتسعير فحينئذ لا بأس به بمشورة من أهل الرأي والبصيرة، فإذا فعل ذلك وتعدى رجل عن ذلك وباع بأكثر منه أجازه القاضي، وهذا ظاهر عند أبي حنيفة؛ لأنه لا يرى الحجر على الحر وكذا عندهما، إلا أن يكون الحجر على قوم بأعيانهم.(الهداية، كتاب الكراهية، فصل في البيع، ج:4، ص:474، الرحمانية)
التصرف على الرعية منوط بالمصلحة.(شرح المجلة، لسليم رستم باز، المادة:58، ص:42، المكتبةالحبيبية)