بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
حالت روزہ میں ٹوتھ پیسٹ کرنے کے بعد قصدا پانی پینا
سوال
ایک شخص نےرمضان کے روزہ کی حالت میں ٹوتھ پیسٹ کیا پھر کسی نے کہا کہ آپ کا روزہ مکروہ ہو گیا ،پھر اس نے قصداً پانی پی لیا ،تو اس پر قضا لازم ہو گی یا قضا کے ساتھ کفارہ بھی ؟رہنمائی فرمائیں ۔
جواب
فقہائے کرام ؒ کی تصریحات کے مطابق روزہ کی حالت میں بلا عذر ذائقہ دار چیز چکھنا اور منہ میں چبانا مکروہ ہے ،بشر ط یہ کہ اس کا ذائقہ حلق میں محسوس نہ ہو۔اور اگر حالت ِروزہ میں ایسا کام کیا جائے جس کے بارے میں یہ شبہ پیدا ہو تا ہو کہ اس سے روزہ ٹوٹتا ہے ،مثلاً :قے کرنا اوربھول سےکھانا پینا وغیرہ ،اور اس کے بعد قصداً کوئی چیز کھائی جائے یا پی لی جائے ،تو اس صورت میں روزہ ٹوٹنے کا شبہ پیدا ہونے کی وجہ سے صرف قضالازم ہوگی ،کفارہ نہیں ۔
صورت ِمسؤلہ میں اگر روزہ دار نے حالت ِروزہ میں ٹوتھ پیسٹ کیا ہو اور اس کا یہ خیال ہو کہ میرا روزہ ٹوٹ گیا ہے ،اور اس کے بعد قصداً پانی پیا ہو ،تو اس صورت میں روزہ دار پر روزے کی قضا لازم ہوگی،کفارہ نہیں ،اس لیے کہ ٹوتھ پیسٹ کرنا ایسا فعل ہے جس کے بارے میں عوام الناس میں روزہ ٹوٹنے کا شبہ پایا جاتا ہے ۔تاہم اگر روزہ دار کو علم ہو کہ ٹوتھ پیسٹ کرنے سے میرا روزہ نہیں ٹوٹا ہے اور اس کے باوجود قصدا ًپانی پیا ہو تو پھر قضا کے ساتھ کفارہ بھی لازم ہو گا ۔
يكره مضغ العلك للصائم۔۔۔وكره ذوق شيئ ومضغه بلا عذر۔(الفتاوى الهندية،كتاب الصوم ،الباب الثالث فيما يكره للصائم ومالايكره،ج1ص261)
( أو احتجم ) أي فعل ما لا يظن الفطر به كفصد وكحل ولمس وجماع بهيمة بلا إنزال أو إدخال أصبع في دبر ونحو ذلك ( فظن فطره به فأكل عمدا قضى ) في الصور كلها ( وكفر ) لأنه ظن في غير محله۔(الدر المختار،كتاب الصوم،باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده،ج3ص388)
وقال ابن عابدين: قوله ( أي فعل الخ ) أشار إلى أن الحكم ليس قاصرا على الحجامة ط واحترز به عما لو فعل ما يظن الفطر به كما لو أكل أو جامع ناسيا أو احتلم أو أنزل بنظر أو ذرعه القيء فظن أنه أفطر فأكل عمدا فلا كفارة للشبهة۔(رد المحتار،كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده،ج3ص388)