بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
طلاق ثلاثہ کو شرط کے ساتھ معلق کرنا
سوال
ایک شخص نے ساس کے ساتھ جھگڑے کے دوران یہ الفاظ"کہ تہ ما نہ دہ لور ورکڑہ نو پہ ما بہ خپلہ خزہ یو زل طلاقہ وی،دوہ زل طلاقہ وی،درے زل طلاقہ وی"کہے جب کہ ساس اپے اس داماد کے بھائ کو نکاح میں بیٹی دینا چایتی تھی جس پر یہ داماد راضی نہیں تھا اس لیے جھگڑے کے دوران یہ الفاظ کہے۔ تو شرعاً ان الفاظ کا کیا حکم ہے ؟
جواب
اگر کسی نے طلا ق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کیا ہو تو شرط واقع ہو تے ہی طلاق واقع ہو جائے گی ۔اگر معلق طلاقیں تین ہو ں تو تین طلا قیں واقع ہوکر بیوی شوہر پر حرام ہوگی ،البتہ شرط کی غیر موجودگی میں طلاق واقع نہیں ہوتی ۔
صورت ِمسؤلہ میں اگر مذکورہ شخص نے ساس کے ساتھ جھگڑے کے وقت واقعی یہ الفاظ " کہ تہ ما نہ دہ لور ورکڑہ نو پہ ما بہ خپلہ خزہ یو زل طلاقہ وی،دوہ زل طلاقہ وی،درے زل طلاقہ وی"(اگر آپ نے مجھ سے اپنی بیٹی رشتہ نکاح میں دے دی تو میری بیوی مجھ پر ایک مرتبہ طلاق ہو ،دومرتبہ طلاق ہو،تین مرتبہ طلاق ہو)کہے ہوں تو شرعاً اس کی بیوی کی تین طلاقیں ساس کےمذکورہ رشتہ دینے کے ساتھ مشروط ہیں،جب تک ساس اپنی اس بیٹی کا رشتہ اس مخصوص لڑکے کو نہ دے اس وقت تک یہ طلاقیں واقع نہیں ہوں گی ،لیکن اگر ساس نے اپنی اُس بیٹی کا رشتہ اُس لڑکے کو دے دیا تو تین طلاقوں کے ساتھ سائل کی بیوی اس سے جدا ہو جائے گی ۔
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا ۔(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الفصل الثالث في تعليق الطلاق ،ج1ص420)
وعند أبي يوسف ومحمدسواء قدم الشرط أو أخر تتعلق الثلاث بالشرط إلا أن عند وجود الشرط إن كا نت مدخولا بها تطلق ثلاثا۔(المبسوط للسرخسي،كتاب الطلاق،باب من الطلاق،ج6ص128)