بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
مشترکہ زمین کو وقف کرنا
سوال
کیا فرماتے ہیں علماے کرام کہ اگرمیراث میں ملی ہوئی زمین ورثا وقف کر دیں اور لوگوں سے چندہ جمع کر کے مدرسہ بھی بنادیں، جب کہ ورثا میں ایک وارث مجنون بھی ہوتو کیا یہ وقف درست ہوگا؟اگر وقف درست ہو تو مجنون کا حصہ کیسے الگ کیا جائے؟
جواب
واضح رہے کہ مشترکہ زمین کے وقف کی صحت کے لیے تمام شرکا کی رضامندی ضروری ہے۔ اگر ایک شریک بھی راضی نہ ہو یا رضا کی اہلیت نہ رکھتا ہو تو وقف جائز نہیں ۔
صورت ِمسئولہ میں میراث میں ملی ہوئی زمین اگر تقسیم نہ ہوئی ہوتو وہ سب شرکا کے درمیان مشترک ہو گی اور ورثا میں جب ایک وارث مجنون ہے جس کا وقف صحیح نہیں اور نہ ہی اس کی رضامندی معتبر ہےتو اس طرح مشترکہ زمین کا مدرسہ کے لیے وقف شرعاً جائز نہیں ۔ اگر مجنون کے علاوہ دیگر ورثا اپنا حصہ وقف کر دیں تو یہ بھی وقف مشاع ہے جو کہ تقسیم سے پہلے جائز نہیں ۔لہذا پہلے مجنون کا حصہ الگ کر کے اس کے ولی کے حوالہ کر دیا جائے پھر باقی ورثا اپنا حصہ وقف کردیں۔
وقف المشاع المحتمل للقسمة لا يجوز عند محمد رحمه الله تعالى وبه أخذ مشايخ بخارى وعليه الفتوى كذا في السراجية۔(الفتاوى الهندية،كتاب الوقف، ج:2،ص:348)
لايجوز لأحد أن يتصرف في ملك غيره بلا إذنه أو وكالة منه أو ولاية عليه۔(شرح المجلة لسليم رستم باز، ماده:92،ص:61)