بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
متارکت کے بعد عدت کا حکم
سوال
ایک شخص نے تین چار سال پہلے بیوی کو تین طلاق دیئے طلاق کے دو تین روز بعد تجدید ِنکاح کیا کیونکہ اس کا خیال تھا کہ طلاق سے پہلے میں نے کفریہ کلمات کہے تھے ،جس کی وجہ سے میرا نکاح ٹوٹ چکا تھا لہذا طلاقیں واقع نہیں ہوئیں۔بعد میں مفتیان ِکرام نے بتایا کہ ان کلمات کی وجہ سے نکاح نہیں ٹوٹا کیونکہ اس شخص نے کفریہ کلمات سوچے تھے ،تلفظ نہیں کیا تھا اور شرعاً تینوں طلاق واقع ہیں جہاں تجدید ِنکاح درست نہیں اس لیے متارکت کریں۔اس نے متارکت کی نیت سے کئی مرتبہ اس بیوی کو طلاق دیئے ہیں تین چار سال گزرنے کے بعد معلوم ہوا کہ اتنا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود عدت ختم نہیں ہوئی کہ اس نے طلاق چھپایا تھا ،لہذا عدت شرو ع ہونے کے لیے اقرار ِطلاق ضروری ہے ۔پھر اس نے بایں الفاظ اقرار کیا کہ تین چار سال سے زیادہ عرصہ ہوا ہے کہ میں نے آپ کو تین طلاقیں دے دی تھیں ۔اب سوال یہ ہے کہ کیا اقرار ِطلاق کے ساتھ دوبارہ متارکت ضروری ہوگا یا نہیں ؟جبکہ ایک مرتبہ بیوی سے متارکت کرکے کہا تھا کہ آپ سے جماع نہیں کروں گا ۔
جواب
شرعی نقطہ نظر سے تفریق،طلاق ،متارکت یا شوہر کے فوت ہونے سے عدت شروع ہو جاتی ہے خواہ عورت کو اس کا علم ہو یا نہ ہو ۔لہذا صورت ِمسؤلہ کے مطابق اگر شوہر نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں تو عدت گزرنے کے بعد چونکہ مطلقہ مغلظہ پہلے شوہر کے لیے محض تجدید ِنکاح سے حلال نہیں ہوتی اس لیے اگر تجدید ِنکاح کی تھی تو متارکت ضروری تھی اور متارکت کی صورت میں عورت کو خبردار کرنا اصح قول کے مطابق ضروری نہیں ،لہذا اگر شوہر نے عورت کو بتائے بغیر متارکت کے الفاظ کہے ہوں اور عورت کو علم نہ ہوا ہو تو بھی عدت گزرنے سے متارکت ثابت ہو چکی ہےلہذا دوبارہ متارکت کی ضرورت نہیں۔
( ومبدأ العدة بعد الطلاق( و ) بعد ( الموت ) على الفور ( وتنقضي العدة وإن جهلت ) المرأة ( بهما ) أي بالطلاق والموت لأنها أجل فلا يشترط العلم بمضيه سواء اعترف بالطلاق أو أنكر۔۔۔(و ) مبدؤها ( في النكاح الفاسد بعد التفريق أو المتاركةأي ( إظهار العزم ) من الزوج ( على ترك وطئها ) بأن يقول بلسانه تركتك بلا وطء ونحوه ومنه الطلاق ۔(الدر المختار،باب العدة،ج5 ص206،205)
وأن الأرجح عدم اشتراط علمها بالمتاركة۔۔۔اعلم أن انقضاء العدة لا ينحصر في إخبارها ،بل يكون به وبالفعل۔(رد المحتار،كتاب الطلاق،باب العدة،مطلب في وطئ المعتدة بشبهة،ج5ص207)