بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
بنات کے مدرسہ کو سیکنڈ ٹائم بنین کے لیے استعمال کرنا
سوال
بنات کے مدرسہ کے لیے وقف شدہ زمین میں ہم سیکنڈ ٹائم بنین کے اسباق اور خانقاہ شروع کرنا چاہتے ہیں ۔شرعاً اس کی گنجائش ہے یا نہیں ؟
جواب
شرعی نقطہ نظر سے وقف کے نفاذ میں مقاصد وقف اور واقف کی شرائط کی رعایت ضروری ہے،موقوفہ چیز میں ایسے تصرفات کرنا درست نہیں جو واقف کی شرائط سے مخالف ہوں، البتہ ایسے تصرفات کی گنجائش ہے جو مقاصد وقف اور واقف کی شرائط سے متصادم نہ ہوں ، بلکہ وقف ہی سے متعلقہ امور ہوں۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص بنات کے مدرسہ کے لیے وقف شدہ زمین کو سیکنڈ ٹائم بنین کے اسباق اور خانقاہ کے لیے استعمال کرنا چاہے ،تو یہ تصرفات چونکہ مقاصد وقف سے متصادم نہیں اس لیے شرعاً اس کی گنجائش ہے ۔تاہم اس میں ضروری ہے کہ وہ چیزیں جو بنات کے لیے مختص ہوں جن پر کسی کا مطلع ہونامعیوب اور ناپسندیدہ شمار کیا جاتا ہو اور ان پر آ گاہی بے پردگی کے زمرے میں داخل ہو ایسی اشیا کے پردے کاپورا اہتمام کیا جائے۔نیز ایسی صورتحال میں چونکہ بنات کے ذاتی احوال پر مطلع ہونے، ان کے ذاتی اشیا پر آگاہی اور بے پردگی سے عام طور پر اجتناب نہیں کیا جاسکتا ،جس کی بنا پر فتنے کا اندیشہ برقرار رہتا ہے،اس لیے بہتر یہ ہے کہ بنات کے مدرسہ کو بنین کے لیے استعمال کرنے سے گریز کیا جائے اور بنین کے لیے کسی متبادل، علیحدہ جگہ کا انتظام کیا جائے جہاں پر کسی قسم کی بے پردگی اور فتنے کا اندیشہ نہ ہو۔
وما خالف شرط الواقف فهو مخالف للنص وهو حكم لا دليل عليه، سواء كان نصه في الوقف نصا أو ظاهرا اهـ وهذا موافق لقول مشايخنا كغيرهم، شرط الواقف كنص الشارع فيجب اتباعه۔(ردالمحتار، كتاب الوقف ، مطلب ماخالف شرط الواقف ، ج: 6 ص:725)
شَرْطُ الْوَاقِفِ يَجِبُ اتِّبَاعُهُ لِقَوْلِهِمْ: شَرْطُ الْوَاقِفِ كَنَصِّ الشَّارِعِ أَيْ فِي وُجُوبِ الْعَمَلِ بِهِ، وَفِي الْمَفْهُومِ وَالدَّلَالَةِ۔ (الأشباه والنظائر لابن نجيم ، كتاب الوقف ، ص: 104 ، ايچ۔ ايم۔ سعيد)