بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

تسعیر کا حکم


سوال

کیاحکومت کی جانب سےطےشدہ نرخ کےمطابق اشیا کو فروخت کرناضروری ہے؟نیزمقررکردہ  نرخ سےزیادہ پراشیاکوفروخت کرناجائزہےیانہیں؟

جواب

 

شرعی نقطۂ نظرسےعام حالات میں حکومت کونرخ اورریٹ مقررکرنےمیں دخل اندازی کاحق  حاصل نہیں،بلکہ اس حوالےسےمارکیٹ کو آزاد رکھنےکی تعلیم دی گئی ہے،تاکہ فریقین باہمی رضامندی سےقیمت طےکرلیاکریں، لیکن اگر کہیں تاجرطبقہ اپنی اجارہ داری قائم کرکےلوگوں سےمن مانی قیمت وصول کرنےلگےاور حکومت وقت کےپاس مفادعامہ کےتحفظ کےلیے تسعیر(ریٹ مقررکرنے)کےعلاوہ کوئی چارۂ کارنہ ہو،توایسی صورت میں فقہائےکرام نےلکھا ہےکہ حکومت اہل رائےاورماہرین کےمشورہ سےریٹ مقرر کرسکتی ہے۔

لہذاصورت مسؤلہ میں اگرحکومت نےمفادعامہ کےتحفظ کےلیےماہرین کےمشورہ سےکسی چیزکانرخ مقررکیاہو تواس صورت میں جس طرح قانونااس کی پاسداری اورپابندی ضروری ہے، اسی طرح شرعابھی اس کی پابندی ضروری ہوگی ،چنانچہ مقررشدہ ریٹ سے زیادہ پر اشیافروخت کرنےسےفروخت کرنےوالاگناہ گارہوگا،تاہم عقددرست رہےگا، اورحاصل شدہ منافع کوبھی حرام نہیں کہاجاسکتا۔

 

قال: "ولا ينبغي للسلطان أن يسعر على الناس" لقوله عليه الصلاة والسلام: "لا تسعروا فإن الله هو المسعر القابض الباسط الرازق" ولأن الثمن حق العاقد فإليه تقديره فلا ينبغي للإمام أن يتعرض لحقه إلا إذا تعلق به دفع ضرر العامة على ما نبين..... فإن كان أرباب الطعام يتحكمون ويتعدون عن القيمة تعديا فاحشا، وعجز القاضي عن صيانة حقوق المسلمين إلا بالتسعير فحينئذ لا بأس به بمشورة من أهل الرأي والبصيرة، فإذا فعل ذلك وتعدى رجل عن ذلك وباع بأكثر منه أجازه القاضي، وهذا ظاهر عند أبي حنيفة؛ لأنه لا يرى الحجر على الحر وكذا عندهما، إلا أن يكون الحجر على قوم بأعيانهم.(الهداية، كتاب الكراهية، فصل في البيع، ج:4، ص:474، الرحمانية)

التصرف على الرعية منوط بالمصلحة.(شرح المجلة، لسليم رستم باز، المادة:58، ص:42، المكتبةالحبيبية)


فتویٰ نمبر : 2838/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور