بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
رضاعی ماں کی اولاد سے نکاح کرنا /نسبی بھائی کی رضاعی بہن سے نکاح کرنا
سوال
(1)مروہ نے عامر سہیل کی والدہ کا دودھ پیا ہے۔کیا مروہ کانکاح عامر سہیل یا اس کے دیگر بھائیوں کے ساتھ جائز ہے یا نہیں ؟ (2)عامر سہیل نے اپنی چچی مسماۃ شازیہ کا دودھ پیا ہے ۔کیا عامر سہیل کا اپنی چچی شازیہ کی لڑکیوں سے نکاح جائز ہے ؟نیز یہ بھی واضح کریں کہ عامر سہیل کے دیگر بھائیوں کا مسماۃ شازیہ کی بیٹیوں سے نکاح جائز ہے یا نہیں ؟
جواب
اگر کوئی بچہ مدت ِرضاعت میں کسی عورت کا دودھ پی لے تو دودھ پینے والے بچے پر دودھ پلانے والی عورت اور اس کے تما م اصول اور فروع حرام ہو جاتے ہیں ،اس لیے کہ یہ خاتون اس بچے کی رضاعی ماں جبکہ اس کی تمام اولاد اس بچے کے رضاعی بہن بھائی بن جاتے ہیں ۔
صورت ِمسؤلہ میں (1)اگر واقعی مروہ نےمدت ِرضاعت میں عامر سہیل کی والدہ کا دودھ پیا ہو تو شرعاً مروہ کا نکاح عامر سہیل یا اس کے دیگر بھائیوں کے ساتھ جائز نہیں ۔
(2)اگر عامر سہیل نے مدت ِرضاعت میں اپنی چچی مسماۃ شازیہ کا دودھ پیا ہو تو اس کا نکاح شازیہ کی تمام نسبی ورضاعی بیٹیوں کے ساتھ جائز نہیں کیونکہ عامر سہیل کے دودھ پینے سے شازیہ کی تمام بیٹیاں اس کی رضاعی بہنیں بن گئی ہیں اور نسبی بہن کی طرح رضاعی بہن سے بھی نکاح جائز نہیں۔تاہم عامر سہیل کے دیگر بھائیوں نے اگر شازیہ کا دودھ نہ پیا ہو تو ان کے لیے شازیہ کی بیٹیوں کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے بشرطیکہ نکاح کے عدم ِجواز کا کوئی اور سبب موجود نہ ہو ۔
يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعا أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل إخوة الرضيع وأخواته ۔(الفتاوى الهندية،كتاب الرضاع،ج1ص343)
لا بأس بأن يتزوج الرجل أم ابنه التي أرضعته… وكذلك يتزوج أخت أخته من الرضاع۔(المبسوط للسرخسي،باب الرضاع،ج5ص137)