بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

انٹر نیٹ پر نکاح کے بعد بیوی سے طلاق کے کنائی الفاظ کہنا


سوال

میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ "تم میری ماں،بہن،خالہ ہو" حالانکہ ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی ،نیز نکاح بھی ہم نے نیٹ کے ذریعے کیا تھا یعنی لڑکا اور لڑکی دونوں مختلف شہروں میں موجود تھے اور نیٹ کے ذریعے ایجاب وقبول کیا تھا ۔اب کیا دوبارہ نکاح کرسکتا ہوں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ عقد ِنکاح میں عاقدین کے  ایجاب وقبول   کے لیے مجلس کا ایک ہونا شرط ہے ،لہذا مجلس  ِعقد  میں خود عاقد ین یا ان کے وکیل کا ہونا ضروری ہے چنانچہ  کہیں   ایجاب وقبول کی مجلس مختلف ہو  تو نکاح منعقد  نہیں ہوگا ۔

                صورت ِمسؤلہ میں اگر  عاقدین نے  نیٹ کے ذریعے براہ ِراست  ایجاب  و  قبول کیا ہو تو راجح قول کے مطابق  یہ نکاح منعقد  نہیں ہوا ہے ۔لہذا جب نکاح  نہیں ہوا تو لڑکے کے کلام "تم میری ماں،بہن ،خالہ ہو"سے طلاق وغیرہ کا کوئی  حکم  متعلق نہیں  ہوگا ۔چنانچہ وہ  شرعی طریقے سے  نکاح کر سکتے ہیں ۔تاہم اگر جانبین میں سے کسی  نے اپنا وکیل مقرر کیا ہو اور پھر وکیل کے ذریعے ایک ہی مجلس کے اندر  عقد طے ہوا ہو تو پھر نکاح منعقد شمار ہو گا  اس صورت میں جب  شوہر نے اپنی بیوی کو ماں ،بہن ،خالہ کہاتو پہلے لفظ سے  طلاق ِبائن واقع ہو گئ ہے ،باقی الفاظ کی حیثیت نہیں ۔لہذا اگر لڑکا لڑکی دوبارہ نکاح کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں البتہ اس صورت میں  شوہر کو تجدید ِنکاح  کے بعد  صرف دو طلاقوں کا   اختیار  ہو گا ۔

ومن شرائط الإيجاب القبول اتحاد المجلس ۔قال العلامه الشامي:قوله ( اتحاد المجلس ) قال في البحر فلو اختلف المجلس لم ينعقد۔(رد المحتار،كتاب النكاح،مطلب التزويج  بإرسال الكتابة،ج4ص67)

( وإن نوى بأنت علي مثل أمي  برا أو ظهارا أو طلاقا صحت نيته ) ووقع ما نواه لأنه كناية ( وإلا ) ينو شيئا أو حذف الكاف ( لغا ) وتعين الأدنى أي البر يعني الكرامة ويكره قوله أنت أمي ويا ابنتي ويا أختي ونحوه۔(الدرا لمختار،كتاب الطلاق ،باب الظهار،ج5ص131)


فتویٰ نمبر : 6241/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور