بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
"سماک" نام رکھنا
سوال
سماک نام رکھنا کیسا ہے؟
جواب
شرعی نقطہ نظر سے ایسا اچھا اور بامعنی نام رکھنا نہایت اہم اور ضروری ہے جو اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے لیے پسند کیا ہو ، یا نبی کریم ﷺ نے ذکر فرمایا ہو ، یا وہ مسلمانوں میں رائج ہواور اچھے معنی والا ہو اس کے علاوہ جو نام ایسا ہو کہ حضورﷺ یا حضرات صحابہ کرامؓ یا علما وصلحائے امت نے اسے استعمال نہ کیا ہو اور نہ ہی کسی اچھے معنی اور مفہوم والا ہو تو اس سے احتراز کرنا چاہیے ۔
صورت مسئولہ کے مطابق سماک( سین کے زیراور میم کے زبرکے ساتھ) معنی کے لحاظ سے درست ہے،اس لیے کہ ا س کا معنی بلند چیز ، ستارہ ، اور بلند مرتبے والا ہے ۔ نیز صلحائے امت ؒ اور تابعین ؒ میں سے کئی حضرات بھی سماک نام سےمسمی تھے، اس لیے سماک نام رکھنے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ۔
وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل .(الفتاوى الهنديه،كتاب الكراهية ، الباب الثاني والعشرون في تسمية الأولاد، ج:5 ص:362)
والسماك ماسمك به الشئ ، والجمع سمك ، التهذيب: والسماك ما سمكتَ حائطا أو سقفا ، وفي حديث ابن عمرؓ: أنّه نظر فإذا هو بالسماك فقال: قد دنا طلوع الفجر ، فأوتر بركعة ، السماك : نجم معروف ۔(لسان العرب للامام ابن منظور،ج:6،ص:369)
سمك سموكا وارتفع فهو سامك،يقال:سنام سامك والشئ سمكا،رفعه السماك:كل ما سمك حائطاكان أو سقفا،و ما سمك به الشئ۔(مختصرالصحاح :للامام محمدبن أبي بكربن عبد القادرالرازي،ص:479)