بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
مال ِتجارت ،مکان کے کرایہ اور سونے میں زکوۃ
سوال
(1)ایک شخص نے تقریباً 20 لاکھ سے کاروبار شروع کیا تھا ،اب وہ کاروبار 50 لاکھ تک پہنچ گیا ہے ۔کتنی رقم سے زکوۃ کی ادائیگی واجب ہے ؟(2)ایک آدمی کے پاس جائیداد جس کا کرایہ ماہوار تقریباً ڈھائی لاکھ آتا ہے اخراجات نکال کر بقایا کرایہ ایک لاکھ باقی رہ جاتا ہے ۔زکوۃ کا کیا حکم ہے ؟(3)ایک عورت کے پاس سونے کا زیور 28 تولہ ہے ،عورت کی اپنی آمدن نہیں ہے صرف زیور ہی عورت کی ملکیت ہے اگر عورت کی زکوۃ خاوند دیا کرے تو کیا جائز ہے ؟(4)گھر میں غیر استعمال گفٹ اور کراکری وغیرہ جو پڑے ہیں کیا ان میں سے زکوۃ دینا واجب ہے ؟
جواب
وجوب ِزکوۃ کے لیے ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باون تولے چاندی یا اس کے بقدر نقدی یا مال ِتجارت کا ہونا ضروری ہے بشر ط یہ کہ اس پر سال بھی گزر جائے ،اور جو رقم سال کے درمیان میں کسی بھی سبب مثلا:میراث ،تجارت وغیرہ سے حاصل ہو جائے اور اصل نصاب والے مال کی جنس سے ہو تو اس مال ِمستفاد پر سال کا گزرنا شرط نہیں بلکہ اصل نصاب سے ملا کر پورے مال کی زکوۃ ادا کی جائے گی ۔
صورت ِمسؤلہ میں (1)اگر سائل پہلے سے صاحب ِنصاب ہو اور دوران ِسال اس نے مثلاً بیس لا کھ سے کاروبار شروع کیا تو سال پورا ہونے پر موجود سامان ِتجارت اور حاصل شدہ منافع اصل نصاب کے ساتھ ملا کر ڈھائی فی صد زکوۃ واجب ہوگی ۔
(2)اگر جائیداد یا مکان وغیرہ تجارت کی نیت سے خریدے گئے نہ ہو ں تو اس کی قیمت پر زکوۃ واجب نہ ہو گی ،البتہ جائیداد یا مکان کا کرایہ وصول کرنے والا مالک اگر پہلے سے صاحب ِنصاب ہو تو اصل نصاب پر جب سال گزر جائے تو اس وقت جو نقدی موجود ہو تو اس میں ڈھائی فی صد زکوۃ واجب ہوگی ۔
(3)سونا نصاب (ساڑھے سات تولے)تک پہنچنے کی صورت میں اس پر سال گزرنے کے بعد چالیسواں حصہ سونا بطور ِزکوۃ ادا کرنا واجب ہوتا ہے ۔تاہم شریعت نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ سونا پاس رکھ کر اس کی قیمت سے زکوۃ ادا کی جائے ۔ پس 28 تولے سونے کی مروجہ مارکیٹ قیمت لگاکر ڈھائی فی صد زکوۃ کی ادائیگی عورت پر لازم ہے اور بنیادی طور پر واجب الادا زکوۃ کی ادائیگی کی ذمہ داری خاتون پر پڑتی ہے تاہم اس کی اجازت سےاگر خاوند نائب بن کر زکوۃ ادا کرے تو یہ بھی جائز ہے ۔
(4)جو سامان گھر کے استعمال کے لیے خریدا جائے تو خواہ ضرورت کے لیے ہو یا ضرورت سے زائد ہو اس میں زکوۃ واجب نہیں۔
ثم المستفاد في خلال الحول يضم إلى أصل النصاب بعلة المجانسة وإن لم يكن متولدا من الأصل فالمتولد أولى ۔(المبسوط للسرخسي،كتاب الزكوة ج3ص48)
ولوكان الزيادة أوالنقصان في العين قبل الحول ثم حال الحول وهي كذالك ،ففي الزيادة تجب الزيادة زائدة لأن تلك الزيادة مستفادة في خلال الحول فيضم إلى الأصل ۔(الفتاوى التاتارخانية،كتاب الزكوة ،الفصل الثالث ،ج2ص103)
رجل أدى زكاة غيره عن مال ذلك الغير فأجازه المالك فإن كان المال قائما في يد الفقير جاز وإلا فلا۔(الفتاوى الهندية،كتاب الزكوة،الباب الأول في تفسيرها ،ج1ص171)
وليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة۔(الهداية،كتاب الزكوة،ج1ص202)