بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

عورت کا اپنے رضاعی محرم سے بوسہ لینا


سوال

کیا فرماتے ہیں علماے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بیوی یمنی عرب ہے۔ اکثر اس کے رضاعی والد اور رضاعی بھائی اس کے ملنے کے لیے آتے ہیں ۔ میری بیوی دونوں  کے ساتھ گلے لگا کر ملتی ہے اور ان کے گال اور ماتھے کا بوسہ لیتی ہے۔ میری موجودگی اور غیر موجودگی میں ان کی اتنی قربت مجھے عجیب لگتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا عورت کے لیے اپنے رضاعی محرم کے ساتھ خلوت اور اس کا بوسہ لینا جائز ہے؟

جواب

                شریعتِ مطہرہ نے ہر مسلمان  مرد وعورت کو، عفت وعصمت اور پاک دامن زندگی گزارنے کا حکم دیا ہے اور فتنہ و فساد اور منکرات وفواحش کے سدِ باب کے واسطے عورت پر غیر محرم سے  پردہ لازم کیا ہے۔ نسبی محارم سے اگر چہ بعض اعضا، مثلاً: چہرہ اور بازو وغیرہ کا پردہ نہیں اور ان کا مس کرنا بھی جائز ہے، لیکن جب فتنہ کا اندیشہ ہو تو پھر ان کے لیے بھی مس کرنا جائز نہیں۔ نیز رضاعی بھائی اور والد وغیرہ اگر چہ محارم میں سے ہیں،  لیکن نسبی رشتہ نہ ہونے کی وجہ سے  وہ  بعض احکام میں نسبی محارم سے مختلف ہیں، مثلاً: خلوت کے حکم میں۔لہذا خوفِ فتنہ کی وجہ سے کسی عورت کا اپنے رضاعی محرم کے ساتھ خلوت یا ان کے ماتھے اور گال کا بوسہ لینا شرعاً جائز نہیں۔

 

(وكره) تحريما قهستاني (تقبيل الرجل) فم الرجل أو يده أو شيئا منه وكذا تقبيل المرأة المرأة عند لقاء أو وداع قنية وهذا لو عن شهوة، وأما على وجه البر فجائز عند الكل خانية،)الدرالمختار علی صدرردالمحتار، کتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء و غیرہ، ج:9، ص: 546)

وَأَمَّا التَّقْبِيلُ بِالشَّهْوَةِ فَحَرَامٌ بِالِاتِّفَاقِ، وَسَوَاءٌ فِي ذَلِكَ الْوَالِدُ وَغَيْرُهُ۔(مرقاۃ المفاتیح،کتاب الآداب، باب المصافحة و المعانقة، الفصل الاول، ج:8،ص:460)

و في الخانیة: رجل قدم من السفر فأراد أن یقبل أخته وھي شیخة قالوا: إن کان یخاف

علی نفسه لا یجوز۔(الفتاوی التاتارخانیة، کتاب الکراھیة، الفصل الثلاثون في ملاقاۃ الملوك، ج:18،ص:256)

والخلوة بالمحرم مباحةإلا الأخت رضاعا، والصهرة الشابة۔ وقال ابن عابدین تحت قولہ(إلا الأخت رضاعا): قال في القنية: وفي استحسان القاضي الصدر الشهيد، وينبغي للأخ من الرضاع أن لا يخلو بأخته من الرضاع، لأن الغالب هناك الوقوع في الجماع اهـ.وأفاد العلامة البيري أن ينبغي معناه الوجوب هنا۔(الدرالمختار علی صدرردالمحتار، کتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمس،ج:9،ص: 530)


فتویٰ نمبر : 6251/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور