بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

خارج مسجد کمرے سے امام کی اقتدا کرنا


سوال

اگر امام پہلی منزل میں نماز پڑھا رہا ہے اور پہلی منزل میں جماعت والوں کا ایک کمرہ بھی ہے جو خارج مسجد ہے کچھ حضرات اس کمرے میں اسی امام کی اقتدا میں نماز باجماعت پڑھتے ہیں حالانکہ مسجد کی دوسری اور تیسری منزل خالی پڑی ہوتی ہے سوال یہ ہے کہ ان حضرات کا اس امام کی اقتداء میں کمرے میں باجماعت نماز ادا کرنا کیسا ھے جب کہ مسجد کی دوسری اور تیسری منزل خالی پڑی ہوتی ہے مدلل جواب عنایت فرمائیں ۔

جواب

          واضح رہے کہ  خارج ِمسجد نماز باجماعت میں امام کی اقتدا کے  صحیح ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ صفیں ملی ہوئی ہوں اور مقتدی کو  امام کے انتقالات کا پتہ چلتا ہو ۔چنانچہ اگر امام اور مقتدیوں کے درمیان عام راستہ  ،بڑا نہر یا  عورتوں کی صف ہو تو اقتدا  جائز نہیں ہو گی ۔

          صورت ِمسؤلہ کے مطابق اگر امام مسجد  کی پہلی منزل میں نماز پڑھا رہا  ہو اور کچھ حضرات مسجد کی حدود سے باہر  کمرے میں امام کی اقتداکررہے ہو ں تو اگر کمرے اور مسجد ہال کے درمیان  کوئی حائل نہ ہواور ان کو امام کے انتقالات کا پتہ چلتا ہو تو اقتدا جائز ہو گی ۔خواہ مسجد کی دوسری  تیسری منزل میں جگہ خالی بھی ہو ۔تاہم جب مسجدکی حدودمیں جگہ خالی ہوتومسجد سے باہرکمرے سے امام کی اقتداکراہت سے خالی نہ ہو گی۔

          ( والحائل لا يمنع ) الاقتداء ( إن لم يشتبه حال إمامه ) بسماع أو رؤية ولو من باب مشبك يمنع الوصول في الأصح ( ولم يختلف المكان ) حقيقة كمسجد وبيت في الأصح قنية ولا حكما عند اتصال الصفوف۔(الدر المختار ،كتاب الصلوة،باب الإمامة،ج2ص333)

ويجوز الاقتداء لجار المسجد بإمام المسجد ،وهو في بيته إذا لم يكن بينه وبين المسجد طريق عام ،وإن كان طريقا عاما ولكن سدته الصفوف ،جاز الاقتداء لمن في بيته  بإمام المسجد۔(الفتاوى التاتارخانية،كتاب الصلوة،بيان ما يمنع صحة الإقتداء ،ج2ص267) 

ولو صلى على رفوف المسجد إن وجد في صحنه مكانا كره كقيامه في صف خلف صف فيه فرجة۔وقال العلامةابن عابدين تحت قوله"كره":لاؑن فيه تركالاٖكمال الصفوف۔(الدرالمختار،كتاب الصلوة،باب الاٖمة،ج2،ص312)


فتویٰ نمبر : 8779/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور