بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

سترہ سو آبادی والے گاؤں میں جمعہ کی نماز کا حکم


سوال

جس گاؤں کی آبادی۱۷۰۰ ہو اور اس میں کپڑے ،جوتے، اٹا ، گھی، چینی اور گیس سب کچھ میسر ہو ، اور تین ڈسپینسریاں اور ڈاکٹر بھی موجود ہو، درزی، اٹا کی مشین، موٹرسائیکل کا مستری، مکان بنانے کا مستری اور ترکان ہو، دو پرائمری سکول اور ایک بڑا مدرسہ ہوجس میں ۳۰۰ طلباِء پڑھ رہے ہو، اس میں جمعہ کی نماز جائز ہونا چاہئے یا نہیں؟ تاکہ لوگوں کیلئے وعظ اور مسائل جاننےکا ماحول بن جائے۔

جواب

واضح رہے کے نماز جمعہ کے وجوب کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے، کہ جہاں نماز جمعہ ادا ہوتی ہو وہ جگہ شہر ہو یا توابع شہر میں سے ہواور یا بڑا گاؤں ہو، موجودہ دور میں فقہا کرام کے نزدیک بڑا گاؤں وہ ہے جس میں ضروریات زندگی میسر ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی آبادی کم از کم دو ڈھائی ہزار افراد پر مشتمل ہو، لہذا اگر کسی گاؤں میں ضروریات زندگی تو میسر ہوں لیکن اسکی آبادی دو ڈھائی ہزار سے کم ہو تو وہاں پر نماز جمعہ پڑھنا جائز نہیں ہے۔ صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ گاؤں کی اپنی آبادی صرف ۱۷۰۰ ہو ، اور یہ کسی شہر کے مضافات میں واقع نہ ہوتو پھر اس میں نماز جمعہ پڑھنا جائز نہیں۔

 "ولا تصح الجمعة إلا في مصر أو في مصلى المصر ولا تجوز في القرى" ( الهداية، كتاب الصلوة ، باب صلوة الجمعة، ج: 1،ص: 177)


فتویٰ نمبر : 8796/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور