بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

حالتِ روزہ میں فون پر بات کرکے انزال ہوجانا


سوال

روزے کی حالت میں بیوی کے ساتھ فون پر بات کرتےہوئے انزال ہوجائے تو روزے کا کیا حکم ہے؟

جواب

               واضح رہے کہ اگر کسی شخص کو روزے کی حالت میں شہوانی خیال آنے کی وجہ سے انزال ہوجائے،تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا،اس لیے کہ خیال آنا ایک ایسا فعل ہے،جو عام حالات میں انزال کا سبب نہیں بنتا،لہذایہ خواب میں احتلام کی طرح ہے،لیکن اگر وہ خودکسی فعل مثلامشت زنی وغیرہ سےانزال کر دے تو اس سے اس کاروزہ ٹوٹ جائے گا۔

             صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کسی شخص کو روزے کی حالت میں اپنی بیوی کے ساتھ فون پر بات کرکےانزال ہو جائےتواگر یہ محض شہوانی خیال آنے کی وجہ سےہوا ہوتو اس سے روزہ نہیں ٹوٹااور اگر اس میں اس کی مشت زنی وغیرہ کا دخل ہوتو پھر روزہ فاسد ہو کراس پر قضالازم ہوگی۔

 

(فإن نام فاحتلم لم يفطر لقوله عليه الصلاة والسلام { ثلاث لا يفطرن الصيام:القيء ، والحجامة ،والاحتلام} ولأنه لم توجد صورة الجماع ولا معناه)أما الأول فلعدم إيلاج الفرج في الفرج وأما الثاني فلعدم الإنزال عن شهوة بالمباشرة،أعني بمس الرجل المرأة( وكذا إذا نظر إلى) وجه ( امرأة ) أو فرجها( فأمنى ) أي أنزل المني لا يفطر(لما بينا)أنه لم يوجد الجماع صورة ولا معنى( فصار كالمتفكر) في امرأة حسناء إذا أمنى۔۔۔۔۔قال المصنف في التجنيس : الصائم إذا عالج ذكره بيده حتى أمنى يجب عليه القضاء هو المختار لأنه وجد الجماع معنى۔(العناية شرح الهداية،كتاب الصوم،باب ما يوجب القضاءوالكفارة،ج:1،ص:631)


فتویٰ نمبر : 8913/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور