بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
طلاق کی دھمکی کی ایک صو رت
سوال
ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا "اوزہ کنی طلاق درکوم"پھراسکی چادر کے ساتھ دو پتھر باندھ لیے اور کہا" درے(۳) طلاق بہ درکوم خوچہ رونٹرہ دے راپسے راشی " شرعا ان الفاظ کا کیا حکم ہے؟
جواب
واضح رہے کہ ماضی یا حال کےصیغےسے طلاق دینے سے طلاق واقع ہوتی ہے،جب کہ مستقبل کے صیغےسے طلاق واقع نہیں ہوتی۔لہذا اگر کوئی یوں کہے کہ "میں طلاق دوں گا" تو یہ طلاق دینے کی دھمکی اور اس کا وعدہ ہے، اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔
صورت مسئولہ میں اگر شوہر نے بیوی کے سامنے صرف یہی الفاظ کہےہوں کہ"اوزه كنی طلاق دركوم"(نکلو ورنہ طلاق دیتا ہو ں) نیز چادر کے ساتھ دو پتھر باندھ کر یہ کہا ہوکہ"درے(۳)طلاق بہ دركوم خوچہ رونٹره دےراپسےراشی"(تین طلاق دوں گا لیکن جب تمہارے بھا ئی آجائیں) تو چونکہ ان الفاظ میں شوہر نے مستقبل میں طلاق دینے کی دھمکی دی ہے،اس لئے محض ان الفاظ سےطلاق نہیں ہوئی۔
وَلَيْسَ منه أُطَلِّقُك بِصِيغَةِ الْمُضَارِعِ إلَّاإذَاغَلَبَ اسْتِعْمَالُهُ في الْحَال(البحرالرائق،كتاب الطلاق،ج3 ص439)
(قَوْله وَرُكْنُهُ لَفْظٌ مَخْصُوصٌ) هُوَ مَا جُعِلَ دَلَالَةً عَلَى مَعْنَى الطَّلَاقِ مِنْ صَرِيحٍ أَوْ كِنَايَةٍ فَخَرَجَ الْفُسُوخُ عَلَى مَا مَرَّ، وَأَرَادَ اللَّفْظَ وَلَوْ حُكْمًا لِيُدْخِلَ الْكِتَابَةَ الْمُسْتَبِينَةَ وَإِشَارَةَ الْأَخْرَس وَإشَارَةَ إلَى الْعَدَدِ بِالْأَصَابِعِ فِي قَوْلِهِ أَنْتِ طَالِقٌ هَكَذَا كَمَا سَيَأْتِي.
وَبِهِ ظَهَرَ أَنَّ مَنْ تَشَاجَرَ مَعَ زَوْجَتِهِ فَأَعْطَاهَا ثَلَاثَةَ أَحْجَارٍ يَنْوِي الطَّلَاقَ وَلَمْ يَذْكُرْ لَفْظًا صَرِيحًا وَلَا كِنَايَةً لَا يَقَعُ عَلَيْهِ كَمَا أَفْتَى بِهِ الْخَيْرُ الرَّمْلِيُّ وَغَيْرُهُ،(ردالمحتارعلی الدرالمختار،كتاب الطلاق،ج4 ص431)