بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
سيلان الرحم( لیکوریا)كى مريضہ کےعمرے کا حکم
سوال
کیا سیلان الرحم کی مریضہ عمرہ کرسکتی ہے؟اس کےبارےمکمل وضاحت فرمائیں۔
جواب
واضح رہے کہ سیلان الرحم ( لیکوریا ) كى بيماری میں خواتین سے خارج ہونے والا پانی نجس ہوتا ہے، اس لیے اس کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ۔
اگر کوئی عورت لیکوریا کی اس طرح مریضہ ہو ، کہ ايك مرتبہ کسی نمازکا پورا وقت اس پراس حالت میں گزر چکا ہوکہ لیکوریا مسلسل خارج ہوتا رہے اور اتنی دیر کے لیے بھی بند نہ ہو کہ وضو کر کے فرض نماز طہارت کی حالت میں پوری کر سکے تو ایسی صورت میں یہ عورت معذورہ ہوگی جس کا حکم یہ ہے کہ ہرنمازکا وقت داخل ہونے پر اس کے لیے وضو ضروری ہے، پھر اس وضو سے اس پورے وقت میں فرض ،نفل ادا یا قضا نمازیں پڑھ سکتی ہے، نیز اسی طرح طواف بھی کر سکتی ہے بشرطیکہ لیکوریا کے علاوہ کوئی اور ناقض وضو پیش نہ آۓ،اور یہ عورت اس وقت تک معذورہ رہے گی ،جب تک کسی ایک نماز کا کامل وقت عذر سے خالی نہ گزر جاۓ۔
صورت مسئولہ کے مطابق سیلان الرحم (لیکوریا)کی مریضہ اگر حج یا عمرہ ادا کرنا چاہے توکرسکتی ہے ،اگر یہ عورت لیکوریا کے مرض کی وجہ سے تمہید میں مذکور تفصیل کے مطابق معذورہ کے حکم میں ہو تو یہ ہر نماز کا وقت داخل ہونے پر وضو کر کےاس وقت کے اندر طواف کر سکتی ہے،اور اگر مستقل مریضہ نہ ہو ،بلکہ اتفاقا دوران طواف لیکوریا خارج ہو جائے،تو وضو ٹوٹنے کی وجہ سے دوبارہ وضو کر کے طواف کو پورا کرنا لازم ہوگا۔
. (قوله: برطوبة الفرج) أي: الداخل ۔۔۔ ومن وراء باطن الفرج فإنه نجس قطعا ككل خارج من الباطن كالماء الخارج مع الولد أو قبيله.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الطهارة،باب الحيض،ج:1، ص:313)
(وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) ۔۔۔ (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث۔۔۔
(وحكمه الوضوءلكل فرض) اللام للوقت كما في لدلوك الشمس.(ردالمحتارعلى الدرالمختار،مطلب في أحكام المعذور،ج:1،ص:504)
وكل عبادة في المسجد فالطهارة من شرطها والطواف يؤدى في المسجد كذا في شرح الطحاوي(الفتاوى الهندية،كتاب المناسك،ج:1،ص:290)