بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
ایک مسجد میں تراویح کی دو جماعتیں پڑھنا
سوال
کیا ایک مسجد میں تراویح کے دو جماعتیں ہو سکتی ہیں؟ ایک جماعت اوپرچھت پر اور دوسری جماعت نیچے مسجد میں ۔
جواب
واضح رہے کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا کثرت ِثواب کا باعث اور امت ِمسلمہ کے مابین اتحاد واتفاق کو برقرار رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے اس لیے فقہاے کرام ؒ نے ایک ہی مسجد میں ایک نماز کی دو جماعتوں کو مکروہ قرار دیا ہے اور یہ کراہت عام ہے جو تراویح کی جماعت ِثانیہ کو بھی شامل ہے ،لہذا بہتر یہی ہے کہ ایک ہی مسجد میں ایک ہی امام کے پیچھے سب تراویح پڑھیں جس کی تائید حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے فعل سے بھی ہوتی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو الگ الگ جماعتیں کرنے یا انفرادً ا پڑھنے کی بجائے ابی ا بن کعب رضی اللہ عنہ کے پیچھے تراویح پڑھنے کے لیے اکھٹا کیا اور سب نے اس پر اتفاق بھی کیا ۔
صورت ِمسؤلہ میں ایک ہی مسجد میں الگ الگ تراویح کی دو جماعتیں تکثیر ِجماعت اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے فعل" سب کو ایک امام کے پیچھے اکھٹا کرنے"کے منافی ہونے کی وجہ سے کراہت سے خالی نہیں ،لہذا اس سے اجتناب کرنا چاہیئے۔اگر حفاظ زیادہ ہو ں اور قرآن مجید سنانے کے لیے ان کو تراویح کی دوسری جماعت کی ضرورت ہو تو چاہیئے کہ مسجد سے باہر کسی جگہ انتظام کیا جائے۔
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ القَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، لَيْلَةً فِي رَمَضَانَ إِلَى المَسْجِدِ، فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ، يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ، وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلاَتِهِ الرَّهْطُ، فَقَالَ عُمَرُ: «إِنِّي أَرَى لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلاَءِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ، لَكَانَ أَمْثَلَ» ثُمَّ عَزَمَ، فَجَمَعَهُمْ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ لَيْلَةً أُخْرَى، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَةِ قَارِئِهِمْ، قَالَ عُمَرُ: «نِعْمَ البِدْعَةُ هَذِهِ، وَالَّتِي يَنَامُونَ عَنْهَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِي يَقُومُونَ» يُرِيدُ آخِرَ اللَّيْلِ وَكَانَ النَّاسُ يَقُومُونَ أَوَّلَه۔(صحيح البخاري،كتاب صلوة التراويح،ج1ص534)
عن عبد الرحمن بن المجبر قال:"دخلت مع سالم بن عبد الله مسجد الجمعة وقد فرغوا من الصلوة فقالوا:ألا تجمع الصلوةفقال سالم :لا يجمع صلوة واحد في مسجد واحد مرتين"۔۔۔قال قاضي خان في شرح"الجامع الصغير":ولوحمل على النهي عن تكرار الجماعة في المسجد أو على النهي عن قضاء الفرائض مخافة الخلل في المؤدى كان حسنا،فإن ذالك مكروه۔وفي "العناية"و"الكفاية" ومن مشائخنا من قال :المراد به الزجر عن تكرار الجماعات في المساجد وهوحسن۔(إعلاء السنن،باب كراهة تكرار الجماعة في مسجد المحلة،ج4ص263)