بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

گھر کی تعمیر کے لیے جمع شدہ رقم سے تجارت کرنے کی صورت میں زکوۃ


سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں  کہ ہمارا اپنا کوئی گھر یا پلاٹ نہیں ہے، کرائے پر رہتے ہیں ،  ہمارے پاس پلاٹ لے کر گھر بنانےکی مد میں کچھ رقم آئی جو کہ گھر بنانے کے لیے نا کافی تھی۔ تو ہم نے اس رقم سے بزنس شروع کر لیا ہے، کیا اس بزنس پر زکوۃ واجب ہے؟

جواب

          واضح رہے کہ جب کسی کی ملکیت میں بقدرِ نصاب سونا، چاندی، نقد رقم یا سامانِ تجارت موجود ہواور اس پر سال گزر جائےتو شرعاً اس میں ڈھائی فیصد زکوۃ واجب ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اگر کسی کے پاس کسی بنیادی ضرورت کی مد میں رقم موجود ہولیکن وہ اس رقم کو اس ضرورت میں صرف نہ کرے بلکہ نصاب پر سال گزرنے کےوقت وہ رقم اس کے پاس موجود ہو یا  وہ رقم تجارت میں لگائی ہو تو اس میں بھی ڈھائی فیصد زکوۃ واجب ہو گی۔

          صورتِ مسئولہ کے مطابق گھر بنانے کی مد میں آئی ہوئی رقم سے  چونکہ گھر بنانے کی بجائے تجارت شروع کی گئی  اس لیے وہ حوائجِ اصلیہ سے نکل کر مالِ نامی (بڑھنے والے مال) میں شامل ہو گئی، لہٰذا اگر یہ شخص پہلے سے صاحبِ نصاب ہو تو اس مالِ تجارت کو بھی اس کے ساتھ ملایا جائے گا اور اسی نصاب کے سال پورا ہونے پر اس مالِ تجارت سمیت تمام اموالِ زکوۃ میں ڈھائی  فیصد زکوۃ واجب ہوگی۔ تا ہم اگر یہ شخص پہلے سے صاحبِ نصاب نہ ہو بلکہ اس رقم سے صاحبِ نصاب بنا ہو تو پھر اس پرسال پورا ہونے کی صورت میں زکوۃ واجب ہوگی۔

 

الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهداية ۔۔۔وتعتبر القيمة عند حولان الحول بعد أن تكون قيمتها في ابتداء الحول مائتي درهم۔(الفتاوی الہندیۃ، کتاب الزکوۃ، الباب الثالث، الفصل الثانی، ج:1 / ص: 241 )

وَلِأَنَّ مَالَ التِّجَارَةِ مَالٌ نَامٍ فَاضِلٌ عن الْحَاجَةِ الْأَصْلِيَّةِ فَيَكُونُ مَال الزَّكَاةِ كَالسَّوَائِمِ ۔ (بدائع الصنائع، کتاب الزکوۃ، فصل فی اموال التجارۃ، ج: 2 / ص: 415)


فتویٰ نمبر : 8805/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور