بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
حیوانات کے نطفے کی خرید و فروخت
سوال
کیا حیوانات (بیل) کے نطفے کے انجکشن کی خرید و فروخت جائز ہے؟
جواب
واضح رہے کہ شرعاً کسی چیز کی خرید و فروخت کے جواز کے لیے اس کا مالِ متقوم اورقابل انتفاع ہونا ضروری ہے ، لہٰذا اگر کوئی چیز عرف میں مالِ متقوم ہو اور اس سے انتفاع میں شرعا کوئی ممانعت نہ ہو، نیز وہ چیز بائع (فروخت کنندہ) کی ملکیت میں ہواور وہ اس کو سپرد کرنے پر قدرت بھی رکھتا ہو تو اس کی خرید و فروخت کی شرعا ً اجازت ہوگی۔
صورتِ مسئولہ کے مطابق آج کل چونکہ اچھی نسل، یا افزائشِ نسل کے مقصد کے حصول کے لیے حیوانات کا نطفہ ایک مالِ متقوم اور قابلِ انتفاع چیز بن چکا ہے، نیز خنزیر کے علاوہ باقی حیوانات کے نطفے سے اس قسم کے انتفاع میں شرعاً کوئی ممانعت بھی نہیں ہے، کیوں کہ حیوانات میں نسب کی شرعاً کوئی اہمیت نہیں ہے۔اس لیے اگر بیع کی دیگر شرائط موجود ہوں تو بیل کے نطفے کے انجکشن کی خرید و فروخت کی شرعاً گنجائش ہے۔
وشرط المعقود علیہ ستة: کونه موجوداً، مالاً متقوماً، مملوکاً فی نفسه وکون الملک للبائع فیما ییعه لنفسه، وکونه مقدور التسلیم ۔ (شرح المجلة للخالد الأتاسی، کتاب البیوع، الباب الثانی، ج:2 / ص: 87 )
قال ولا بأس ببيع السرقين ...ولنا أنه منتفع به لأنه يلقى في الأراضي لاستكثار الريع فكان مالا والمال محل للبيع. (الھدایۃ،کتاب الکراھیۃ، فصل فی البیع، ج:7 / ص:224 )