بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

قسطوں کی زکوۃ


سوال

 میری الیکٹرانکس کی دکان ہے۔اور میں قسطوں پر خرید وفروخت کرتا ہوں۔سوال یہ ہے کہ ہم نے پورے سال میں 100 گاہک کیساتھ اقساط پر خریدوفروخت کی۔ان میں سے تقریبا 50 گاہکوں نے ہمیں وقت پر اقساط کی ادائیگی کی۔جبکہ باقی 50 گاہکوں میں سے 30 گاہک نے ابھی تک کوئی رقم ادا نہیں کی ۔اور 20 گاہک نے دھوکہ دہی ،فراڈ کے ذریعے سے ہم سے پروڈکٹ ہتھیا لی۔اوران 20 گاہکوں سے رقم کی ادائیگی کی کوئی صورت باقی نہ رہی ۔تو اس صورت میں زکوۃ کی ادائیگی کا طریقہ کار کیا ہوگا۔ کیا صرف ان 50 گاہکوں کی قسطوں میں زکوۃ اجب ہوگی جنہوں نے رقم کی ادائیگی کی، یا جن 30 گاہکوں سے رقم کی ادائیگی کی امید باقی ہے، اور جن 20 گاہکوں سے رقم کی ادائیگی کی کوئی صورت باقی نہ رہی،ان میں بھی زکوۃ واجب ہو گی؟

جواب

         واضح رہے کہ اگر کسی صاحبِ نصاب شخص کا مال دوسرے شخص کے پاس بطورِ قرض موجود ہو، اور وہ مقروض اس کا اقرار بھی کرتا ہو، اور اس سے ملنے کی امید بھی ہو،تو اس مال پر سال گزرنے کی صورت میں زکوۃ واجب ہوگی، البتہ زکوۃ کی ادائیگی قرض وصول کرنے کے بعد واجب ہوگی۔اور جس قرض کےملنے  کی کوئی امید باقی نہ رہے توشرعاً  اس مال کی زکوۃ  واجب نہیں ہوتی۔

            صورتِ مسئولہ کے مطابق جن پچاس گاہکوں سے قسطوں کی وصولی ہو چکی ہے تو اس رقم میں سال پورے ہونے پر زکوۃ واجب ہوگی،  اور جن تیس گاہکوں سے ابھی قسطیں وصول نہیں ہوئی ہیں لیکن ان سے  وصولی  کی امید ہےتو ان قسطوں میں بھی  زکوۃ واجب ہے، تا ہم اس کی ادائیگی اس کووصول کرنے کے بعد  لازم ہوگی۔ جب کہ جن بیس گاہکوں سے قسطوں کی وصولی کی کوئی امید نہیں ہے ،تو ان قسطوں میں زکوۃ واجب نہیں ہوگی۔

ف ( تجب ) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول لكن لا فورا بل ( عند قبض أربعين درهما من الدين ) القوي كقرض ( وبدل مال تجارة ) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم۔(الدر المختار علی صدر ردالمحتار، کتاب الزکوۃ، باب زکوۃ المال، ج: 3/ ص: 236,237 )

ويشترط أن يتمكن من الاستنماء بكون المال في يده أو يد نائبه فإن لم يتمكن من الاستنماء فلا زكاة عليه وذلك مثل مال الضمار۔۔۔ومن مال الضمار الدين المجحود والمغصوب إذا لم يكن عليهما بينة۔(الفتاوی الہندیۃ، کتاب الزکوۃ، الباب الاول، ج: 1/ ص:236 )


فتویٰ نمبر : 8806/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور