بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 03/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مندر میں جا کر ہندؤں کے رسوم میں شریک ہونا


سوال

کیا فرماتے ہیں علماے دین ومفتیانِ شرع محمدی ان مسائل کے بارے میں : (1)انفرادی یا اجتماعی صورت میں بعض مسلمان ہندؤں کے مندر میں جاکر ان کی مورتیوں پر ان کی رسوم کے مطابق دودھ گراتے ہیں۔ (2)ان کے دستور کے مطابق ناریل توڑیں ۔مورتیوں پر آرتی یعنی خوشبو کی پلیٹ لے کر سامنے گھماتے ہیں ۔ (3)مورتیوں کے سر پر کلہ سجاتے ہیں ان کے مذہب کے مطابق۔ (4)عورت سے سندور کا ماتھے پر ٹیکا لگوانا ۔ (5)مورتیوں کے سامنے دامن پھیلا کر پنڈت سے کامیابی کی دعا کروانا۔ (6)پنڈت کو کہنا اگر ہمیں کامیابی مل گئی تو آپ کی دیوالی اور ہولی میں شریک ہوکر اسے پورے جوش وخروش سے منائیں گے ۔براہِ کرم ایسے مسلمانوں کے متعلق کیا حکم ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ ہر قسم کی عبادت (نماز ،روزہ،زکٰوۃ،حج ،قربانی اور نذرو نیاز وغیرہ)کا مستحق   صرف اور صرف اللہ جل شانہ ہے اور اللہ سبحانہ وتعالی کے ساتھ کسی غیر کو  عبادت میں شریک  کرنا شرک ہے ۔اسی طرح حدیث" الدعاء مخ العبادة."(ترمذي) میں دعا كو عبادت كا مغز  قرار ديا گيا ہے نیز آپ ﷺنے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کوفرمایا تھا :"تم جب بھی مانگوتو اللہ تعالی سے مانگو اور جب بھی مدد چاہوتو اللہ تعالی  سے مدد چاہو"(ترمذي)۔لہذا دعا بھی محض اللہ تعالی سے مانگنی چاہیے۔

                صورت ِمسؤلہ میں: (1)جو رسوم ہندؤں کے مذکور ہیں ازروے شرع یہ سب ناجائز ہیں اور کسی مسلمان  کے لیے  یہ جائز نہیں کہ وہ ہندؤں کے ان رسموں میں شریک ہو۔

(2)جو مسلمان ہندؤں کے ساتھ  مذکورہ ناجائز رسوم وغیرہ میں  بطورِ عبادت شریک ہوتا ہوتو شرعاً اس کا یہ عمل موجبِ کفر وشرک ہے۔بالخصوص سوال میں مذکور شق نمبر پانچ " مورتیوں کے سامنے دامن پھیلا کر پنڈت سے کامیابی کی دعا کروانا"ایک مشرکانہ عمل ہے جس میں مشرکانہ عمل کے ساتھ ساتھ رضا بالکفر کا پہلو بھی ہے لہذا اس صورت میں توبہ تائب ہو کر تجدید ایمان کرے۔

(3) اگر کوئی مسلمان عبادت وتعظیم کی نیت کے بغیر محض رسم ورواج کی خاطر ہندؤں کے ساتھ  سوال میں مذکور پہلے چار  رسوم اور چھٹی  رسم میں شریک ہوتا ہے تو اگر چہ یہ عمل صریح کفر نہ ہوگا لیکن غیر مسلموں کے ساتھ  مشابہت  ہونے کی وجہ سے  حرام بہر حال ہے ۔

قال اللہ تعالی:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدۃ:90)

وقال: لَهُ دَعْوَةُ الْحَقِّ وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ لَا يَسْتَجِيبُونَ لَهُمْ بِشَيْءٍ إِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ إِلَى الْمَاءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَالِغِهِ وَمَا دُعَاءُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ (الرعد:14)

عن عائشة رضى الله عنها قالت قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- « من أحدث فى أمرنا هذا ما ليس فيه فهو رد ».(سنن أبي داؤد،باب في لزوم السنة،رقم الحديث 4608،ج4ص329)

عن ابن عمر قال قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- « من تشبه بقوم فهو منهم ».(أيضا،رقم الحديث4033،ج4ص78)

ومن سرى في سكة النصارى ورأى جماعةمنهم يشربون الخمر ويطربون بالمعازف والقنيات فقال هذه سكة العشرة،ينبغي أن يشد الإنسان قطعة الحبل في وسطه  ويدخل فيما بينهم ويطيب في هذه الدنيا ،كفر۔(منح الروض الأنهرفي شرح الفقه الأكبر،ص499)

وبالجملة فمن قال أو فعل ماهو كفر ،كفر بذالك وإن لم يقصدأن يكون كافراإذ لا يقصد الكفر أحدإلا ما شاء الله۔(الصارم المسلول:178)


فتویٰ نمبر : 4628/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور