بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

زیر تعمیر بلڈنگ میں قبضہ سے پہلے دکانیں فروخت کرنا


سوال

زید نے ایک حکومتی ادارے سے 100 سالہ لیز پر زمین لی ہے،اب زید اس زمین پر اپنے خرچ سے مارکیٹ تعمیر کر رہا ہے اور زید نے یہی زیر تعمیر مارکیٹ عمرو کو فروخت کر دی ہے۔ اب عمرو اس زیر تعمیر مارکیٹ کی دکانوں کو آگے فروخت کر تاہے، دریافت طلب امر یہ ہے کہ:

1. عمرو کا زید سے یہ زیر تعمیر مارکیٹ خریدنا کیسا ہے؟

2. عمرو کا اس زیر تعمیر مارکیٹ میں دکانوں کوابھی سے اگے فروخت کرنا کیسا ہے؟ اگر جائز نہیں تو اس کا جائز متبادل کیا ہوگا؟

جواب

(1)شریعت مطہرہ کی رو سے کسی معدوم  چیز کی بیع جائز نہیں تاہم عقد استصناع جائز ہے ، اس کے جواز کے لئے معقود علیہ(مبیع)  کی جنس ، نوع ، صفت ، مقدار کا معلوم ہونا اور اس  پر لوگوں کا تعامل ہونا شرط ہے ۔صورت مسئولہ میں زید جو مارکیٹ تعمیر کر رہا ہے  اسے عقد استصناع کے ذریعےعمرو پر فروخت کرنا جائز ہے، جس کے لئے یہ ضروری ہے کہ مارکیٹ  اور اس کی تعمیرسے متعلق تمام تر تفصیلات یعنی(محل وقوع،منزلیں،میٹیریل وغیرہ)  کی تعیین عقد  میں  اس طور پر کی جائے  کہ بعد میں کسی قسم کے جھگڑے اور تنازع کا سبب نہ بنے۔

(2)زیر تعمیر مارکیٹ  شرعا عقد استصناع کے طور پر خریدنا جائز ہے اور عقد استصناع میں جب تک وہ  چیز مستصنع(خریدار) کے  قبضہ میں نہ آجائے  اس میں اس کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی اس لئے  قبضہ سے پہلے وہ چیز کسی کو فروخت کرنا شرعا جائز نہیں لہذا صورت مسئولہ میں جب تک زید( مارکیٹ بنانے والا ) عمرو(خریدنے والے) کومارکیٹ  قبضہ میں نہ دے دےاس وقت تک عمرو کے لئے اس زیر تعمیرمارکیٹ کی  دکانوں کو آگے کسی پر فروخت کرنا  جائز نہیں تاہم وعدہ بیع کی گنجائش پائی جاتی ہے،یعنی اگر عمرو کسی شخص کے ساتھ یہ وعدہ کرے کہ اس مارکیٹ کی عمارت مکمل ہونے اور قبضہ ملنے کے بعدمیں ایک دکان اتنی قیمت کے عوض آپ پر فروخت کرونگا اور وہ شخص خریدنے کا وعدہ کر لے ،پھر مارکیٹ بننے اور قبضہ حاصل ہونے کے بعدوعدہ کے مطابق خریدو فروخت کا معاملہ کر لیا جائے تو  یہ صورت جائز ہوگی اور ایسی صورت میں اگر  عمرو خریدار سے وعدہ بیع کے بعد کچھ رقم  لے لے جو کہ قرض کی حیثیت سے عمرو کے پاس ہوگی تو اس کی بھی گنجائش ہے، البتہ وعدہ بیع کی صورت میں چند شرائط کی رعایت ضروری ہے:

  1. وعدہ بیع کو "بیع "سے الگ سمجھا جائے  یعنی جن عاقدین کے درمیان معاملہ ہو رہا ہووہ یہ سمجھتے ہوں کہ وعدہ بیع "بیع" نہیں  بلکہ بیع بعد میں ہوگی اب محض اس کا وعدہ  ہورہا ہے۔
  2. عرف میں جو الفاظ  حتمی سودا پر دلالت کرتے ہیں وہ الفاظ تحریر میں  استعمال نہ کیے جائیں،جیسے :(میں نے فروخت کردی، بیع ہوگئی ،وغیرہ) بلکہ اس  کی جگہ ایسے الفاظ استعمال کیے جائیں جن سے معلوم ہو کہ یہ  وعدہ ہے ،بیع نہیں ۔
  3. مارکیٹ تیار ہونے اور عمرو کو قبضہ ملنے  کے بعد جن سے وعدہ بیع کیا ہو ان سےباقاعدہ  بیع کا عقد کر لیا جائے اور اگر تحریری دستاویز لکھنی ہو تو اسی وقت لکھ لی جائے ۔

قال الله تعالى: وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا۔  (الإسراء:34)

هو (اي الاستصناع) عقد على مبيع في الذمة شرط فيه العمل۔  (بدائع الصنائع ، فصل واما جوازه ، ج5 ، ص2)

وفي البدائع من شروطه بيان جنس المصنوع ونوعه وقدره وصفته وأن يكون مما فيه تعامل (رد المحتار ، مطلب فى الاستصناع ، ج5 ، ص223)

اما حكم الاستصناع فهو ثبوت الملك للمستصنع في العين المبيعة في الذمة وثبوت الملك للصانع في الثمن ملكا غير لازم۔  (بدائع الصنائع، فصل و اماصفة الاستصناع ، ج5 ، ص3)


فتویٰ نمبر : 2831/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور