بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

دبلی لواغر میں نماز جمعہ


سوال

ہمارا گاؤں دبلی لواغر جو کہ کرک شہر سے تقریباً پانچ، چھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور ہمارا یہ گاؤں لمبائی اور چوڑائی  کے اعتبار سے تقریباً 14۔15 کلومیٹر طویل اور چار ،پانچ کلو میٹر چوڑا ہے اور اس گاؤں کی کل آبادی تقریبا چار سے پانچ ہزار کے درمیان ہے ،پانچ پرائمری سکول ہیں اور ایک بوائے ہائر سیکنڈری اسکول اور ایک گرلز ہائر سیکنڈری سکول ہے پٹوار خانہ ،ڈاکخانہ ،ہسپتال ،تھانہ ،بینک،موچی نائی سونار وغیرہ نہیں ہیں ۔اکثر علاقے میں بجلی کی سہوت موجود ہے البتہ بعض تھوڑے سے علاقوں میں بجلی کی سہولت موجود نہیں ہے  تمام علاقے کے لوگوں نے غیر قانونی گیس اپنی مدد آپ لگایا ہے ،گاؤں میں دوبڑی مسجد ہیں باقی چھوٹے چھوٹے مساجد ہیں بارہ دوکانیں ہیں جو کہ گھروں کے اندر ہیں اس میں کاسمیٹکس  سامان بچوں کے کپڑےزنانہ کپڑے اور دیگر اشیاء موجود ہیں اور جو دوکانیں گھروں سے باہر ہیں ان میں  خشک سامان مثلاً چاول  ،گھی پتے  ،چائے ،آٹا وغیرہ ملتا ہے ،جو گاؤں والوں کی ایمرجنسی تو پورا کرتا ہے لیکن یہ چیز وافر مقدار میں موجود نہیں ہے اور صرف ایک قسم کاکوالٹی موجود ہوتا ہے مستقل  بازار اور میلہ  وغیرہ نہیں لگتا ،سبزیاں پھل فروٹ وغیرہ بالکل نہیں ملتے ہیں ایک پوٹری فارم ہے جس میں کبھی مرغیاں ملتی ہیں اور کبھی مہینوں تک نہیں ملتی ،اور باقی جانوروں کا گوشت  نہیں ملتا ،گھروں کے اندر جو دوکانیں ہیں اس سے عام آدمی سودا نہیں کرسکتا ہے چھوٹے بچے  اور عورتیں اس سے سودا لیتی ہیں ۔اس گاؤں میں گھروں کی تعداد تقریبا چار ،پانچ سو کے درمیان ہیں لیکن گھروں کے درمیان اتصال نہیں کہیں ایک گھر کہیں دو گھر ہیں اور کہیں دس پندرہ اور کہیں اس سے زیادہ واقع ہیں ، لیکن گھروں کے درمیان فاصلہ مختلف ہے ،بعض میں کلو میٹر ،بعض میں دوکلومیٹر ،آدھا کلومیٹر   ،پانچ سو فٹ ،دوسو فٹ ،سوفٹ اس سے کم ،زیادہ فاصلہ بھی گھروں کے درمیان ہیں ،علاقے میں اونچ نیچ بھی ہے  بعض گھر اوپر اور بعض اتنے نیچے ہیں کہ نظر نہیں آتے اور بعض اتنی اونچائی پر واقع ہیں کہ وہاں پر گاڑی چڑھنا بھی ناممکن ہے اور دور سے نظر آتے ہیں شہر سے گاؤں کو دو سڑکیں حکومت نے  بنائی ہیں اور دونوں پکی  سڑکیں ہیں ایک ٹیوب ویل بھی لگایا ہے لیکن ابھی تک چالونہیں کیا ہے پورے علاقے کے لوگوں کی ایک مسجد میں جمعہ کے نماز کے لیے جمع کرنا بھی مشکل ہے اس لیے  کہ آبادی بہت بکھری ہوئی ہے اور لوگوں کی آپس میں تنازعات بھی ہے ایک دوسرے کے مسجد میں بعض لوگ جاتے ہیں اور بعض نہیں جاتے اس گاؤں  کےلوگ  زیادہ تر اپنے ضروریات موٹرسائیکل کے ذریعے کرک بازار سے پورا کرتے ہیں  ۔ٹرانسپورٹ کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے لوگ گھنٹوں گھنٹوں بازار جانے کے لیے گاڑی کا انتظار کرتے ہیں یا پھر پیدل چلے جاتے ہیں ۔گاؤں میں تین دینی مدارس ہیں دو بنین کی اور ایک بنات کا ،گاؤں میں مختلف محلے ہیں جو دس پندرہ گھروں پر مشتمل ہوتے ہیں ،ان کا اپنا اپنا نام بھی ہے اور ہر ایک محلے کا اپنا قبرستان اور مسجد ہیں مستقل ڈاکٹر نہیں ہے لیکن آرمی سے ریٹائرنرسنگ لوگوں کو ایمرجنسی دوائی ڈرپ اور انجکشن لگاتا ہے۔بغیر لوڈسپیکر کے اذان ایک دوسرے محلے میں سنائی نہیں دیتی ۔اس گاؤں میں نماز جمعہ جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

جمعہ کے وجوب ادا کے لیے دوسری شرائط کے علاوہ ایک شرط مصر یا بڑا گاؤں ہے بڑا گاؤں وہ ہے جس میں بنیادی ضروریات  پائی جاتی ہوں ۔موجودہ دور میں جس علاقہ کی آبادی دو ڈھائی ہزار افراد پر مشتمل ہو اور ضروریات زندگی اس میں میسر ہوں تو وہ بڑا گاؤں شمار ہوگا اور اس میں جمعہ پڑھنا جائز ہوگا ۔اور توابع شہر میں کلو میٹر اور فاصلے کا کوئی اعتبا ر نہیں بلکہ توابع سے شہر کے مضافات میں واقع وہ آبادی مراد  ہے جو مستقل گاؤں یا قصبہ نہ ہو بلکہ عرف میں شہر ہی کے تابع شمار ہوتی ہو ۔چنانچہ جو آبادی شہر سے باہر ہو اور مستقل ایک گاؤں کی حیثیت رکھتی ہو اور عرف میں بھی وہ ایک الگ گاؤں شمار ہوتا ہو تو اگر وہ خود بڑاگاؤں نہ ہو تو اس میں نماز جمعہ جائز نہیں ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگرمذکورہ  گاؤں (دبلی  لواغر ) میں مذکور شرائط موجودہوں اور  اس ایک ہی گاؤں (دبلی لواغر ) کی آبادی چار ،پانچ ہزار  ہو الگ الگ مستقل گاؤں نہ  ہوں تو اس گاؤں میں نماز جمعہ کا انعقاد صحیح ہے ۔

نیز  مقامی علماء کرام ومفتیان حضرات سے بھی رجوع کیا جائے  کیونکہ وہ علاقے کی نوعیت کو بہتر جانتے ہیں۔

تقع فرضا فی القصبات والقری الکبیرۃ التی فیھا اسواق۔(ردالمحتار علی الدرالمختار ،کتاب الصلوۃ ،باب الجمعۃ ج3 ص6)

لاتصح الجمعۃ الا فی نصر جامع او مصلی المصر ولا تجوز فی القری ۔(الھدایۃ ،کتاب الصلوۃ ، باب الجمعۃ ،ج1ص 177)


فتویٰ نمبر : 8776/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور