بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

تنسیخ نکاح


سوال

سید کلثوم اور انعام اللہ کے درمیان عقد نکاح ہوا لیکن رخصتی نہیں ہوئی رخصتی سے قبل دونوں گھرانوں کے درمیان کچھ تنازعات پیدا ہوئے جس کی بنیاد پر بیوی نے شوہر کے ساتھ رہنے سے انکار کر دیا اور شوہر سے طلاق کا مطالبہ کیا شوہر نے طلاق سے انکار کیا تو بیوی نے عدالت سے رجوع کرکے خلع کا کیس دائر کردیا عدالت میں کچھ عرصے کارروائی کے بعد خلع کا فیصلہ کرلیا گیا جس کے کاغذات لف ہیں۔ شرعی لحاظ سے عدالت کی طرف سے خلع کی بنیاد پر تنسیخ نکاح کا کیا حکم ہے ؟

جواب

میاں بیوی کے ازدواجی تعلقات قائم ہونے کے بعد اگر شوہر باوجود قدرت کے بیوی کے حقوق اور نان نفقہ وغیرہ کی ادائیگی سے انکار کرے جس کی وجہ سے عورت کے لیے خاوند کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہو تو ایسی صورت میں اصل حکم تو یہ ہے کہ عورت شوہر کو طلاق یا خلع پر راضی کرکے اس سے چھٹکارا حاصل کرے تا ہم اگر شوہر نہ حقوق ادا کررہا ہو اور نہ ہی طلاق یا خلع پر راضی ہوتا ہو تو ایسی صورت میں شوہر متعنت کہلاتا ہے اور متعنت کی بیوی کو مسلمان حاکم یا عدالت کی طرف رجوع کرنے کا اختیار ہے۔عدالت کی طرف رجوع کرنے کے بعد اگر عدالت نے مکمل تحقیق کی اور عورت نےشوہر کے ظلم و ستم کو ثابت کیاتو عدالت شوہر کو حکم دے گی کہ یا تو بیوی کو صحیح طریقے سے آباد کرے یا طلاق دے اگر وہ آباد کرے تو ٹھیک ،اگر انکار کرے یا عدالت کا سمن ملنے کے باوجود عدالت میں شوہر یا اس کا وکیل حاضر نہ ہو اور بیوی اس کی زوجیت سے نکلنا چاہتی ہو تو تب عدالت عورت کو تنسیخ نکاح کی ڈگری دے سکتی ہے اور یہ تنسیخ شرعا معتبر ہوگی اور عدت گزرنے کے بعد یہ عورت دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر عدالت نے ذکرکردہ وجوہات کی بنا پر میاں بیوی کے درمیان فسخ نکاح کا فیصلہ کیا ہو تو شرعا عدالت کی یہ ڈگری فسخ نکاح کے حوالے سے معتبر ہوگی اور عدت گزرنے کے بعد یہ عورت دوسری جگہ نکاح کرسکتی  ہے ۔

قال اللہ تعالی :فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ۔(البقرۃ 229)

وإذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به۔(الهداية ،باب الخلع ،ج2 ص404)

وأما المتعنت الممتنع عن الإنفاق ففي مجموع الأمير ما نصه إن منعها نفقةالحال فلها القيام فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق و إلا طلق عليه ،قال محشيه أي طلق عليه الحاكم ۔(الحيلة الناجزة ،ص 133)

إذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو ثلاثا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء۔(الفتاوى الهندية ،الباب الثالث عشر في العدة ،ج 1ص526)


فتویٰ نمبر : 6233/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور