بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

کچھا پھل سستا خریدکر اس پر "سپرے" کرنےکے بعد پکے پھل کے داموں فروخت کرنا


سوال

ایک شخص پھلوں کا تاجر ہے وہ کچھا پھل خریدتاہے۔ اور ان پر کسی کیمیکل کا سپرے کراتاہے جس سے وہ پھل راتوں رات پَک جاتےہیں۔  اور سستے داموں میں خریدے پھلوں کو پَکے پھل کی قیمت سے بازار میں فروخت کرتاہے، (جبکہ وہ کیمیکل مضرصحت ہوتا ہے) ایسے تاجر اور تجارت کا کیا حکم ہے؟ اور اس تجارت سے حاصل شدہ آمدنی کا کیا حکم ہے؟

جواب

شریعتِ مطہرہ نے دھوکہ دہی اور فریب کو زندگی کے ہر شعبے میں ناجائز قراردیاہے۔   ادنی معیار کی چیز کو دھوکہ سے اعلی  معیار والی چیز  ظاہر کرکے فروخت کرنا بھی  دھوکہ دہی میں داخل  ہے جوکہ جائز نہیں ۔  تاہم  اگر بائع مشتری سے مبیع کا عیب نہ چھپائے یا مشتری کو پہلے سے عیب معلوم ہو ،اور باہمی رضامندی سے  زیادہ قیمت طے کریں تو عقد اور اس سے حاصل شدہ  نفع کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔

لہذاصورتِ مسئولہ کے مطابق اگر تاجر کچے پھلوں پر کسی ایسے کیمیکل کا "سپرے" کرتاہے  جو مضرِ صحت ہے تو ذاتی منافع کے حصول کی خاطر لوگوں کی صحت کو نقصان پہنچانا جائز نہیں  لہذا ایسے سپرے سے اجتناب ضروری ہے۔ لیکن اگر  کیمیکل کےسپرے  میں انسانی صحت کو نقصان پہنچانے والے مضرتِ صحت مواد نہ ہوں تو جلدی پکانے کےلیے کچے پھلوں پر ایسے سپرے کرنے کی گنجائش ہےلہذا جن پھلوں پر غیرمضرِصحت سپرے کیاگیاہو،  ان کو فروخت کرکے اس سے حاصل شدہ کمائی بھی حلال ہوگي۔

عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : من حمل علينا السلاح فليس منا ومن غشنا فليس منا.(الصحيح لمسلم،ج1ص99،رقم الحديث101)

رَجُلٌ أَرَادَ أَنْ يَبِيعَ السِّلْعَةَ الْمَعِيبَةَ وهو يَعْلَمُ يَجِبُ أَنْ يُبَيِّنَهَا.(الفتاوى الهندية، كتاب البيوع، الباب العشرون فى البياعات المكروهة والأرباح الفاسدة، ج3 ص 210)

أما بيان نفس العيب القائم به فلا بد منه لئلا يكون غاشا له للحديث الصحيح من غش فليس منا۔(البحرالرائق، باب المرابحة،ج6،ص123)

 لا ضرر ولا ضرار.(شرح المجلة لعبدالمالك ، المادة: 19، ج1ص36)


دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور