بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 03/11/2026 |
قرآن خوانی کے بعد کھانا کھانے کا حکم
سوال
آج کل ایصالِ ثواب کے لیے یا گھر اور دوکان میں برکت کے لیے قرآن خوانی کا اہتمام کیا جاتا ہے اور اس کے بعدقرآن خوانی کرنے والوں کو کھانا کھلایا جاتا ہے تو یہ کھانا کھانا شرعاً کیسا ہے؟
جواب
قرآن کریم کی تلاوت کر کے اس کا ایصالِ ثواب کرنا جائز ہے لیکن تلاوتِ قرآن کے بدلے اجرت لینا جائز نہیں تاہم اگر کسی جگہ اجرت کے بجائے محض اکرام اور ھدیہ کے طور پر ایصالِ ثواب کی خاطر تلاوت کرنے والوں کو کچھ کھلایا پلایا جائے تو اس کی گنجائش ہے۔
ہمارے عرف میں چونکہ تلاوت کرنے والوں کو محض اکرام اور ہدیہ کے طور پر کھانا کھلایا جاتا ہے لہذا اس کے کھانے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ۔ البتہ اگر کسی جگہ باقاعدہ عقدِ اجارہ ہوتا ہے اور اجرت کے طور پر کھانا کھلایا جاتا ہے تو اس کا کھانا جائز نہیں۔
ولا يصح الاستئجار على القراءة وإهدائها إلى الميت لأنه لم ينقل عن أحد من الأئمة الإذن في ذلك ۔۔۔فالحاصل أن ما شاع في زماننا من قراءة الأجزاء بالأجرة لا يجوز لأن فيه الأمر بالقراءة وإعطاء الثواب للآمر والقراءة لأجل المال فإذا لم يكن للقارىء ثواب لعدم النية الصحيحة فأين يصل الثواب إلى المستأجر۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الاجارۃ،ج9،ص77)
(وقال الشعبي لا يشترط المعلم إلا أن يعطى شيئا فليقبله)۔۔۔۔ وقول الشعبي هذا يدل على أن أخذ الأجر بالاشتراط لا يجوز فإن اعطى من غير شرط فإنه يجوز أخذه لأنه إما هبة أو صدقة وليس بأجرة وأصحابنا الحنفية قائلون بهذا۔(عمدۃ القاری،باب مایعطی فی الرقیۃ علی احیاءالعرب بفاتحۃ الکتاب،ج12،ص97)