بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بیوی کی شرم گاہ میں انگلی ڈالنے سے وجوب ِغسل


سوال

 کیا عورت کی شرمگاہ میں انگلی ڈالنے سے غسل واجب ہوجاتاہےیا نہیں ؟ اسی طرح کیا شوہر محض لذت کی نیت سے انگلی سے بیوی کو فارغ کرسکتا ہے یا نہیں ؟

جواب

              واضح رہے کہ اگر عورت کی شرم گاہ میں بغرضِ علاج وغیرہ کے بغیر شہوت کے انگلی ڈالی گئی تو اس سے غسل واجب نہیں ہوتا اسی طرح اگر شوہر نے بیوی کی شرم گاہ (فرج ِ داخل) میں انگلی داخل کی اور عورت کو اس سے شہوت نہیں ہوئی تو اس صورت میں بھی غسل واجب نہیں ہوگا ۔تاہم اگر میاں بیوی شہوت کی بنا پر یہ عمل کریں اور شوہر اپنی انگلی عورت کے شرم گاہ میں داخل کرے اور عورت کی منی نہ نکلےتو وجوبِ غسل کے سلسلے میں فقہائے کرام کی آرا مختلف ہیں ، البتہ احتیاط اس قول میں ہے کہ اس سے غسل واجب ہوجاتا ہے ، لہذا شہوت ہونے کی صورت میں عورت غسل کرے اور اگر مرد کے  انگلی داخل کرنے کی وجہ سے عورت کی منی خارج ہوجائے تو عورت پر بالاتفاق غسل واجب ہوجائے گا ۔

      اور عورت کی شرم گاہ میں انگلی ڈال کر اسے فارغ کرنے کا حکم یہ ہےکہ فقہائے کرام کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح سے بیوی کو فارغ کرنا نامناسب اور مکروہ ہے۔

(و) لا عند (إدخال إصبع ونحوه في الدبر أو القبل) على المختار۔ قال في التجنيس: إن المختار وجوب الغسل في القبل إذا قصدت الاستمتاع؛ لأن الشهوة فيهن غالبة فيقام السبب مقام المسبب دون الدبر لعدمها نوح أفندي.(ردالمحتارمع الدر المختار ، کتاب الطھارۃ ، ج: 1 ص: 305)

ويجوز أن يستمني بيد زوجته وخادمته اهـ وسيذكر الشارح في الحدود عن الجوهرة أنه يكره ولعل المراد به كراهة التنزيه فلا ينافي قول المعراج يجوز ۔۔۔ بقي هنا شيء وهو أن علة الإثم هل هي كون ذلك استمتاعا بالجزء ۔۔۔ أم هي سفح الماء وتهييج الشهوة في غير محلها بغير عذر۔۔۔ لم أر من صرح بشيء من ذلك والظاهر الأخير؛ لأن فعله بيد زوجته ونحوها فيه سفح الماء لكن بالاستمتاع بجزء مباح ۔(ردالمحتار ، كتاب الصوم ، باب ما يفسد الصوم ، ج: 2 ص:399)


فتویٰ نمبر : 4678/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور