بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

طلاقِ رجعی کے بعد رجوع کی نیت کے بغیر جماع کا حکم


سوال

زید نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تم نے فلاں کام کیا تو تم مجھ پر طلاق ہوگی بعد میں شوہر نے کہا کہ ابھی آپ کرسکتی ہے اور میری طرف سے اجازت ہے چنانچہ بیوی نے وہ کام کرلیا ۔مفتیانِ کرام سے استفسار کے بعد معلوم ہوا کہ ایک طلاق رجعی واقع ہوا ہے اور شوہر کی اجازت کا کوئی اعتبار نہیں ،لہذا اگر عدت کے اندر شوہر رجوع کرے تو سہی ،ورنہ بیوی اس سے بائنہ ہوجائے گی ۔ شرط واقع ہونے کے بعد بھی زید فاطمہ (مطلقہ رجعیہ)کو اپنی بیوی سمجھتا ہے ،اور اس سے بیویوں جیسا سلوک کرتا ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ زید کا اپنی بیوی کے ساتھ بیوی جیسا سلوک کرنا رجوع شمار ہوگا یا نہیں ؟جبکہ اس کی نیت رجوع کی نہیں تھی ،دوسری بات یہ کہ رجوع میں علم اور نیت کا اعتبار ہے یا نہیں ؟

جواب

اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو  طلاقِ رجعی دے دے اور عدت گزارنے سے قبل ہی خاوند رجوع کرلے تو بغیر تجدید ِ نکاح کے  بیوی اس کیلئے  حلال ہوجاتی ہے۔ یہ رجوع خواہ قول کے ذریعے ہو یا فعل کے ذریعے سے ہو،بیوی اس پر راضی ہو یا نہ ہو ۔نیز رجوع میں نیت اس وقت ضروری ہے جب رجوع کنائی الفاظ کے ساتھ کیا جائے ،لہذا فعل (مباشرت  وغیرہ)کے ذریعے رجوع  صحیح ہونے کیلئے  نیت کا ہونا ضروری نہیں ۔

     صورت مسؤلہ میں  طلاق واقع ہونے کے بعد اگر واقعی عدت کے اندر شوہر اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستر ہوا ہو تو ایسی صورت میں اگرچہ شوہر نے  رجوع کی نیت  کے بغیر  مباشرت کی   ہو تب بھی شرعاً رجوع ثابت ہے اور آئندہ کیلئے شوہر کے پاس  مزید دو طلاقوں کا اختیار  باقی  ہوگا ۔

وتصح مع إكراه وهزل ولعب وخطأ ( بنحو ) متعلق باستدامة ( راجعتك ورددتك ومسكتك ) بلا نية لأنه صريح ( و ) بالفعل مع الكراهة۔وقال ابن عابدين : وهذا بيان لركنها وهو قول أو فعل ،والأول قسمان صريح كما مثل وكناية مثل أنت عندي كما كنت وأنت امرأتي فلا يصير مراجعا إلا بالنية ۔۔۔ قوله ( وبالفعل ) هذا ليس من الصريح ولا الكناية لأنهما من عوارض اللفظ فافهم  نعم ظاهر كلامهم أن الفعل في حكم الصريح لثبوت الرجعة به من المجنون ۔(الدر المختار،كتاب الطلاق ،باب الرجعةج5ص24)


فتویٰ نمبر : 6225/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور