بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
جناز گاہ کی زمین کو قبرستان کی زمین کے ساتھ تبدیل کرنا
سوال
ہمارے علاقے میں جو جناز گاہ ہے وہ قبرستان کے درمیان میں ہے، قبرستان کا کچھ حصہ پہاڑ کے دامن میں ہے لیکن وہاں زمین سخت ہونے کی وجہ سے قبر کھودوانا مشکل ہے اور اب علاقے والے چاہتے ہیں کہ جناز گاہ کو پہاڑ کے دامن میں منتقل کرکے موجودہ جناز گاہ پر قبرستان بنائیں، کیا شرعا اس طرح کرنا جائز ہے؟
جواب
واضح رہے کہ اگر واقف زمین کسی خاص مصرف کے لیے وقف کرے تو اس کو متعلقہ مصرف میں استعمال کرنا ضروری ہے، تاہم جہاں پر لوگ کسی ضرورت یا مصلحت کی وجہ سے موقوفہ زمین کو دوسری زمین کے ساتھ تبدیل کرنا چاہیں تو مسجد کے علاوہ دیگر موقوفہ زمین جیسے قبرستان یا جناز گاہ وغیرہ کو دوسری زمین کے ساتھ تبدیل کرنے کی گنجائش ہوگی، بشرط یہ کہ واقف یا اس کے ورثا اس پر راضی ہوں۔ صورت مسئولہ میں:
(1) اگر زمین صرف قبرستان کے لیے وقف ہو اور اس میں عارضی جناز گاہ بنائی گئی ہو تو شرعا اس جناز گاہ کو قبرستان کے لیے موقوفہ دوسری زمین کی طرف منتقل کرنا جائز ہے۔
(2) اور اگر یہ زمین قبرستان اور جناز گاہ دونوں کے لیے مطلقا وقف ہو تو چونکہ دونوں کا تعلق فی الجملہ ایک کار خیر سے ہے اس لیے قبرستان کو جناز گاہ کی جگہ اور جناز گاہ کو قبرستان کی جگہ منتقل کرنے کی گنجائش ہوگی۔
(3) لیکن اگر یہ جگہ قبرستان اور جناز گاہ دونوں کی لیے وقف ہو اور واقف نے یہ تصریح اور تعيين کی ہو کہ یہ جگہ صرف جناز گاہ کے لیے وقف ہے جبکہ یہ جگہ صرف قبرستان کے لیے، تو اس صورت میں واقف یا اس کے ورثا کی اجازت کے بغیر جناز گاہ اور قبرستان کو اپنی اپنی جگہ سے تبدیل کرنا مناسب نہیں،ہاں اگر یہ جگہ جناز گاہ کے طور پر استعمال کرنے میں مشکلات پیدا ہوں اور دوسری جگہ میں جناز گاہ بنانا لوگوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو تو واقف یا اس کے ورثا کی اجازت سے مصلحت کی رعایت کرکے تبدیل کرنا جائز ہے۔
...أن المقابر وقف من أوقاف المسلمين لدفن موتاهم لا يجوز لأحد أن يملكها، فإذا درست واستغنى عن الدفن فيها جاز صرفها إلى المسجد، لأن المسجد أيضا وقف من أوقاف المسلمين لا يجوز تملكه لأحد. (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، بيان حكم نبش قبور المشركين، ج:4، ص:179).
وفي القنية: مبادلة دار الوقف بدار أخرى إنما تجوز إذا كانت في محلة واحدة وتكون المحلة المملوكة خيرا من المحلة الموقوفة وعلى عكسه لا يجوز كذا في البحر الرائق. (الفتاوى الهندية، كتاب الوقف، فيما يتعلق بالشرط في الوقف، ج:2ص:375).
لو كان الوقف مرسلا لم يذكر فيه شرط الاستبدال لم يكن له أن يبيعها ويستبدل بها وإن كانت أرض الوقف سبخة لا ينتفع بها كذا (في فتاوى قاضي خان) وقد اختلف كلام قاضي خان في موضع جوزه للقاضي بلا شرط الواقف حيث رأى المصلحة فيه. (الفتاوى الهندية، كتاب الوقف، فيما يتعلق بالشرط في الوقف، ج:2(ص:376)
مراعاة غرض الواقفين واجبة. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الوقف، مطلب مراعاة غرض الواقفين واجبة، ج:6، ص:665).