بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

تقریبات میں کھڑے ہو کر کھانا پینا


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام  اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایسی دعوت ولیمہ میں جانا کیسا ہے جہاں پر کھانا پینا کھڑے ہو کر کھایا جاتا ہو ۔اگر ایک شخص ایسی دعوت ولیمہ میں شریک ہو جائے  جہاں کھاناوت ولیمہ میں جانا کیسا ہے؟ جہاں پر کھانا ہینا کھڑے ہو کر کھایا جاتا ہو ۔اگر ایک شخص ایسی دعوت ول پینا کھڑے ہو کر کھایا جاتا ہو اور اس کو پہلے سے معلوم نا ہو تو شرعاً ایسا شخص کھانا کھائے بغیر واپس  لوٹے ،یا کھڑے ہو کر کھائے ،یا کہیں پر الگ بیٹھ کر کھائے ؟

جواب

واضح رہے کہ دعوت ولیمہ ایک مسنون عمل ہے،دعوت ملنے پر ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کی دعوت قبول کرنی چاہیے،جیسا کہ ارشاد نبوی ہے کہ"جب تم میں سے کسی کو ولیمہ میں شرکت کی دعوت دی جائے،تو چاہیے کہ اس میں آئے"لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہاں کھانا بھی کھائے،چنا نچہ اگر کوئی شرعی یا طبعی رکاوٹ نہ ہو تو کھائےورنہ چھوڑدے،جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہےکہ"اگر چاہے تو کھائے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے"۔نیز کھانے پینے کے آداب میں سے ہےکہ بیٹھ کر کھایا جائے،جیسا کہ نبی کریم ﷺ،صحابہ کرام ؓ، اکابرین وصلحاےامت کا عام معمول بیٹھ کر دسترخوان بچھا کر اس پر کھانا رکھ کر کھانے کا رہا ہے ،عام حالات میں چلتے پھرتے کھانا پینا مکروہ ہے ،البتہ اگر مجبوری ہو یا بیٹھنے کی جگہ نہ ہو تو کھڑے ہو کر کھانے کی گنجائش ہے ،اسی طرح اگرکھانا تو بیٹھ کر ہی کھایا جائے ،لیکن بطور تفکہ ولذت   استعمال ہونے والی اشیا (پھل ،چاکلیٹ وغیرہ)میں سے کچھ چلتے پھرتے  کھا لی جائے تو اس کی گنجائش روایات میں موجود ہے،تاہم اس کا معمول بنانا خلاف سنت و مروت ہے ،لہذا کھڑے ہو کر کھانے کی عادت بنانا  یاتقریبات میں کھڑے ہو کر کھانے کی ترتیب رکھنا اسلامی آداب کے خلاف اور مکروہ ہے ،تاہم اگر کبھی اتفاقاً ایسی نوبت پیش آجائے یا مجبوری و عذر ہو توکھڑے ہو کر کھانے میں گناہ نہیں ہوگا،البتہ اگرکوئی عالم فاضل مقتدا شخص ہوجس کے فعل کا اثر متعدی ہو کر دوسرے لوگ اس سے سبق حاصل کرتے ہوں تو ایسى شخص کو احتیاط کرنا چاہئے کہ ایسى محفل میں کسی مناسب جگہ بیٹھ کر کھانا کھائے  اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو کھانا کھانے کے بجائےصرف حاضری پر اکتفا کرے ۔

 

عن أنس، عن النبي صلى الله عليه وسلم، أنه نهى أن يشرب الرجل قائما، قال قتادة: فقلنا فالأكل، فقال: ذاك أشر أو أخبث ۔(الصحيح لمسلم، كتاب الأشربة، باب في الشرب قائما، ج:2، ص:173)

أن النهى فيها محمول على كراهة التنزيه وأما شربه صلى الله عليه و سلم قائما فبيان للجواز فلا اشكال ولاتعارض وهذا الذى ذكرناه يتعين المصير إليه۔(شرح النووي على صحيح مسلم ، باب في الشرب قائما، ج:9، ص:5535)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُجِبْ عُرْسًا كَانَ أَوْ نَحْوَهُ۔(سنن أبي داؤد،كتاب الأطعمة،باب ماجاءفي إجابةالدعوة، ج:2، ص:169)

وفي الجامع الصغير للسيوطي نهى عن الشرب قائما والأكل قائما ۔   (ردالمحتارعلي  الدرالمختار، كتاب  الطهارۃ، مطلب في مباحث الشرب قائما، ج:1، ص:255، دارالكتب العلمية)

عن ابن عمر قال : كنا نأكل على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم ونحن نمشي ونشرب ونحن قيام (سنن الترمذى كتاب الآشربه،باب ما جاءفى النهى عن الشرب قائما،ج4 ص265)

إن حديث ابن عمرمحمول على أكل لقمةاو لقمتين،وأكل اشياءلايهتم بالمائدة(تكمله فتح الملهم ج4 ص13)


فتویٰ نمبر : 4606/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور